Al-Risala · February 1999 · page 41

تصویر کا فتنه

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۱

سوال

کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے اسلامی مدرسوں میں تشدد اور علیحدگی پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس طرح وہ ملک میں منفی رول ادا کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں ان مدرسوں کو باقی رکھنے کا جواز ہے (محمد عمران، راشٹریہ سہارا، دہلی)

جواب

یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ملک میں تشدد پسندی اور علیحدگی پسندی کارجان ہے مگر وہ زیادہ تر سیاسی لیڈروں کا پیداکردہ ہے، ان کا مدرسوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ان مدرسوں میں دین اور اخلاق کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان مدرسوں میں ایسے لوگ تیار کئے جاتے ہیں جو اصول پسند اور باکردار ہوں۔ اور اسی کے ساتھ وہ سماج میں مارل ٹیچر بن کر رہ سکیں۔ میں خود مدرسہ کے اسی تعلیمی نظام کی پیداوار ہوں۔ اور میں پورے اعتماد کے ساتھ اس قسم کے الزام کی تردید کر سکتا ہوں۔ سیاست اور میڈیا یہ دو چیزیں لوگوں کے کردار کو بری طرح تباہ کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں مدرسہ کے نظام کو مزید طاقتور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ موجودہ اخلاقی بگاڑ کے سیلاب کو روک سکیں۔

سوال

ہدایہ کا ایک جز یہ ہے ”قتال الكفار واجب وان لم يبدونا“ (کفار سے قتال واجب ہے اگرچہ وہ ہم سے قتال کی ابتدا نہ کریں) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام اور اہل کفر کے درمیان تعلق کی دائمی نسبت محاربہ کی ہے۔ اور اہل کفر سے اہل ایمان کو جنگ کرنا مطلقاً واجب ہے۔ اسی طرح کی بات امام ابن القیم نے زاد المعاد میں جہاد کے سلسلہ میں بحث کرتے ہوئے، اور سید قطب شہید نے اپنی مشہور کتاب معالم في الطريق میں اسی کو بنیاد بنا کر ایک لمبی بحث لکھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات علمی اور شرعی طور پر ثابت ہے (غضریف شہباز ندوی، ابوالفضل انکلیو نئی دہلی)

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page