تصویر کا فتنه
الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۲
جواب
دائمی محاربہ کا نظریہ نہ قرآن کی کسی براہ راست نص میں ہے اور نہ حدیث میں۔ وہ تمام تر کچھ فقہا اور علما کے قیاس پر مبنی ہے۔ اور دائمی محاربہ جیسا سنگین مسئلہ صرف نص صریح سے ثابت ہونا چاہئے نہ کہ قیاس سے۔ مثال کے طور پر قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کفار و مشرکین جب تک تم سے سیدھے (پرامن) رہیں تم بھی ان سے سیدھے (پرامن) رہو (التوبہ ۷) قرآن کی یہ آیت واضح طور پر مذکورہ نظریہ سے ٹکراتی ہے۔ اسی طرح ایک متفق علیہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا کرو بلکہ اللہ سے عافیت مانگو (لا تتمنوا لقاء العدو واسالوا الله العافية) یہ حدیث بھی واضح طور پر مذکورہ نظریہ کی تردید ہے۔ مزید یہ کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تم سے آسانی چاہتا ہے (البقرہ ۱۸۵) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ دین آسان ہے (الدین یسر) مگر مذکورہ نظریہ دین کو نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک جدید مثال کمیونزم ہے۔ اس کو بھی ابدی محاربہ کے نظریہ پر قائم کیا گیا تھا مگر تقریباً سو سال کے تجربہ کے بعد وہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ اگر ابدی محاربہ کا حکم ہو تو یہ نعوذ باللہ اسلام کو غیر ابدی قرار دینے کے ہم معنی ہو گا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لئے اس دنیا میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ ۔۔ ہلاکت یا منافقت۔ یعنی یا تو وہ ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں سے لڑ کر اپنے کو ہلاک کرتے رہیں یا ابدی محاربہ کا عقیدہ رکھتے ہوئے ظاہری طور پر مصالحت کی روش اختیار کر لیں جس کا دوسرا نام منافقت ہے۔
سوال
آپ نے اپنی متعدد تحریروں میں تقسیم ہند کو ایک غلط فیصلہ قرار دیا ہے۔ آپ کے نزدیک تقسیم ہند کی تحریک نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے بیچ مطلوب دعوتی تعلق کو نقصان پہنچایا ہے۔ دونوں قومیں اسی تحریک کے باعث ایک دوسرے سے نفرت کرتی ہیں۔ ہم یہ بات تسلیم کر سکتے ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues