Al-Risala · February 1999 · page 49

تصویر کا فتنه

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۹

جواب میں کہا گیا کہ اسلام کبھی نفرت کی تعلیم نہیں دے سکتا۔ اسلام کا پیغام ساری انسانیت کے لئے ہے اور جو دین ساری انسانیت کو خطاب کرتا ہو وہ کبھی نفرت کی تعلیم نہیں دے گا کیوں کہ نفرت اس کے مشن کے راستہ میں رکاوٹ ہے۔

۹۔ زی ٹی وی (دہلی) میں ۲۲ دسمبر ۱۹۹۸ کو ایک پینل ڈسکشن تھا۔ مسٹر ٹی این سیشن نے اس کو کنڈکٹ کیا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ موضوع یہ تھا کہ کیا اقلیت اس ملک میں ڈر محسوس کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لئے بہت سی قابلِ شکایت باتیں ہیں مگر یہ کہنا صحیح نہیں کہ مسلمان اس ملک میں ڈر کی نفسیات کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ مسلمانوں کے پاس ایمان کی جو طاقت ہے وہ ان کو ڈر سے بچاتی ہے۔ البتہ ان کو شکایت ضرور ہے۔ مسٹر د نے کٹیہار (فائونڈر پریسیڈنٹ بجرنگ دل) نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے اس دیش میں کوئی ڈر کی بات نہیں۔ صدر اسلامی مرکز نے جواب دیا کہ اس کا کریڈٹ آپ کو نہیں جاتا بلکہ مسلمانوں کو جاتا ہے۔ کیونکہ آپ نے تو ڈرانے کی پوری کوشش کی مگر وہ ڈرے نہیں۔ خود جہاں تک آپ کا تعلق ہے تو آپ نے تو اجودھیا میں گھس کر بابری مسجد کو توڑ دیا جب کہ اس کا کیس عدالت میں تھا۔ مسلمان صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ دستور اور قانون کے مطابق معاملہ کیا جائے۔

۱۰۔ ایک کتاب زیر تیاری ہے۔ اس کا نام ہندو مسلم ڈائیلاگ ہوگا۔ اس کتاب میں ڈائیلاگ کے روپ میں ان تمام عقائد اور اعمال پر بحث ہوگی جو ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان عرصہ سے اختلافی شکل میں چلے آرہے ہیں۔ اس ڈائیلاگ کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں غیر مسلموں کے درمیان جو غلط فہمیاں ہیں وہ دور ہوں اور اسلام کی صداقت دلائل کے اسلوب میں واضح ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page