Al-Risala · February 1999 · page 48

تصویر کا فتنه

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۸

جواب میں انھوں نے کہا کہ جہاد دراصل پرامن جدوجہد کا نام ہے نہ کہ تشدد کا۔ آپ کو چاہئے کہ جہاد کے تصور کو قرآن و حدیث سے سمجھیں نہ کہ کسی شخص کے رویہ سے۔ ۵۔ دہلی کے انگریزی اخبار راشٹریہ سہارا کے نمائندہ، مسٹر عمران نے ۱۲ نومبر کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستان میں اور خاص طور پر مسلمانوں میں تعلیم کے سوال کے مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمانوں میں مدرسہ کا جو نظام ہے وہ ملک کی ترقی میں رکاوٹ نہیں ہے بلکہ وہ اس میں مددگار عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مدرسے ملک کو مارل ٹیچر فراہم کر رہے ہیں جس کی ملک کو شدید ضرورت ہے۔ ۶۔ سنسکرت اکیڈمی دہلی کی طرف سے ۱۲ نومبر کو ذاکر حسین کالج (دہلی) میں ایک اجتماع ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام ایک عالمی مذہب ہے۔ وہ زبانوں سے پرہیز نہیں سکھاتا۔ چنانچہ مسلمانوں نے دنیا بھر کی زبانیں سیکھیں اور بڑے بڑے علمی کارنامے انجام دیے۔ حتی کہ تاریخ کو نئے علمی دور میں داخل کر دیا۔

۷۔ آرٹ سنٹر (نئی دھلی) میں ۱۳ اکتوبر ۱۹۹۸ کو ایک اجتماع ہوا۔ اس کا موضوع روحانیت تھا۔ اس کے بنیادی اسپیکر دو تھے ڈاکٹر کرن سنگھ اور صدر اسلامی مرکز۔ صدر اسلامی مرکز نے اپنی تقریر میں اسلام اور روحانیت کے موضوع پر گفتگو کی۔ آخر میں حاضرین کی طرف سے اسلام کے بارے میں کئی سوالات کئے گئے جس کا انھوں نے جواب دیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اسلام کا مقصد اصلاً فرد کا تعمیر و تزکیہ ہے۔ اسلام میں مدافعانہ جنگ ہے مگر جارحانہ جنگ کی اسلام میں اجازت نہیں۔

۸۔ ہندی ہفتہ وار جن چینتا (دہلی) کے ایڈیٹر رام گوپال سسو دیا نے ۱۲ دسمبر کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے تھا۔ ایک سوال کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page