Al-Risala · March 2000 · page 6

سر چشمہ اعتماد

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۶

سر چشمہ اعتماد

۲۷جنوری ۲۰۰۰کو دہلی میں میرے ساتھ ایک جانکاہ ذاتی حادثہ پیش آیا۔ میرا ایک نوجوان پوتا سڑک کے ایک حادثہ میں اچانک وفات پا گیا۔ ۲۸ جنوری کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد اوکھلا کی مسجد میں نماز جنازہ ہوئی اور جامعہ کے قبرستان میں اس کو دفن کیا گیا۔ مرحوم خالد (فرزند ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں ڈائرکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اینڈ عربک اسٹڈیز) ایک انتہائی ذہین نوجوان تھا۔ وہ آر کیٹیکچر میں زیر تعلیم تھا۔ ہر لحاظ سے وہ ایک صالح اور لائق نوجوان تھا۔ گویا کہ وہ ایک کلی تھی جس کو ابھی پھول بننا باقی تھا۔ مگر اس کے لئے مقدر تھا کہ وہ پھول بننے سے پہلے ہی موجودہ دنیا سے رخصت ہو جائے۔ جمعہ کی نماز کے بعد جب اس کی میت روانہ ہوئی اور میں نے میت کے پلنگ کو کندھا دیا تو میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ میری زبان سے نکلا: یہ کیسی عجیب بات ہے کہ بوڑھادادا نوجوان پوتے کے جنازہ کو کندھا دے رہا ہے۔ مرحوم خالد کی میت جب قبر کے اندر رکھی جاچکی اور حسب قاعدہ میں نے اپنے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اس میں مٹی ڈالتے ہوئے کہا: منھا خلقناکم وفيها نعيدكم و منها نخرجكم تارة أخرى ۔ تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے قبر سے مرحوم نوجوان کی پر مسرت آواز میرے کانوں میں آ رہی ہے: دادا آپ رورہے ہیں، میں تو دیکھئے، جنت کے باغوں میں کھیل رہا ہوں۔ مرحوم خالد کی وفات کے بعد اگلی رات کو میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ نے خواب دیکھا کہ وہ مجھ سے کہہ رہی ہے: ابا دیکھئے خالد تو بول رہے ہیں۔

یہ اسلام کی تعلیم کا کرشمہ تھا۔ اسلام میں بتایا گیا ہے کہ معصوم بچے بلا حساب کتاب جنت میں داخل کر دیئے جاتے ہیں۔ مرحوم خالد ابھی معصومیت کی عمر میں تھا، وہ ابھی مسؤ لیت کی عمر میں نہیں پہنچا تھا۔ مزید یہ کہ مومن کے لئے حادثہیا ھدم کی موت کو شہادت کی موت کہا گیا ہے (صحیح مسلم، کتاب الامارة، باب بيان الشهداء) اس بنا پر انشاء اللہ یقینی ہے کہ مرحوم کی موت اس

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page