Al-Risala · March 2000 · page 5

محتاط روش

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۵

محتاط روش

عن اوس بن شرحبیل انه سمع رسول الله عليه وسلم يقول : من مشى مع ظالم ليقويه وهو يعلم انه ظالم فقد خرج من الاسلام (مشكاة المصابیح ۱۳۲٫۳) اوس بن شرحبیل کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو شخص ظالم کے ساتھ چلے تاکہ اس کو تقویت حاصل ہو، اور وہ جانتا ہو کہ وہ ظالم ہے، تو ایسا شخص اسلام سے نکل گیا۔ عن ابراهيم بن ميسرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من وقر صاحب بدعة فقد اعان علی هدم الاسلام (مشكاة (٦٦/١) ابراھیم بن میسرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بدعت والے کی توقیر کرے تو اس نے اسلام کو منہدم کرنے میں مدد دی۔

کسی آدمی کے برا آدمی ہونے کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ براہ راست برائی میں ملوث ہو۔ مثلاً وہ خود برا کام کرے یا برا کام کرنے والے کا باقاعدہ ساتھی بن جائے۔ جو لوگ اس طرح براہ راست انداز میں ملوث ہوں ان کا برا ہونا ایک معلوم اور مسلم بات ہے۔ تاہم اسلام کی نظر میں صرف وہی شخص برا نہیں جو ذاتی طور پر اور براہ راست طور پر برائی میں ملوث ہو۔ اسلام کے نزدیک وہ شخص بھی یکساں طور پر برا ہے جو بالواسطہ انداز میں برائی کے عمل میں ملوث ہوتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں آدمی کا ہر عمل یا تو کسی کے موافق ہوتا ہے یا کسی کے مخالف، ہر آدمی اپنے قول و عمل سے ایک روش کی تائید کرتا ہے اور دوسری روش کی تردید، خواہ یہ تائید و تردید براہ راست ہو یا بالواسطہ۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہئے کہ جب بھی وہ کسی معاملہ میں بولے یا کوئی کاروائی کرے تو بولنے یا کرنے سے پہلے یہ سوچے کہ اس کے قول یا عمل کے ذریعہ کس کی حمایت ہوتی ہے اور کس کی مخالفت۔ اور وہ وہی کرے جس سے اہل حق کی حمایت ہوتی ہو۔ ہر حال میں وہ اہل باطل کی حمایت سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے حتیٰ کہ بالواسطہ حمایت سے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page