سر چشمہ اعتماد
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۸
ایک حدیث
صحیح مسلم کا آغاز کتاب الایمان سے ہوتا ہے۔ اس کے ایک باب کا عنوان یہ ہے کہ جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارے اس کے لئے جہنم کی وعید ہے (باب وعيد من اقتطع حق مسلم بيمين فاجرة بالنار):
عن ابی أُمَامَةَ ان رسول اللہ صلی اللہ ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من اقتطع حق امرى علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان آدمی مسلم بيمينه فقد اوجب الله له النار کا مال قسم کھا کر مارلے تو اللہ اس کے لئے آگ وحرم عليه الجنة. فقال له رجل وان کو واجب کر دیتا ہے۔ اور اس پر جنت حرام کر دیتا كان شيئاً يسيراً يا رسول الله قال: ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ اے خدا کے رسول، وان كان قضيباً من اراك (الجامع اگرچہ وہ کوئی معمولی چیز ہو۔ آپ نے فرمایا کہ لاحكام القرآن ٤ / ١٢٠) اگرچہ وہ پیلو کی ایک ٹہنی کیوں نہ ہو۔
دوسرے کی چیز ہڑپ کرنے کے بعد قسم کھانا دراصل اپنے آپ کو جائز ثابت کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ آدمی کبھی قسم کے ذریعہ سے اپنی تنزیہ کرتا ہے اور کبھی دوسرے ذریعہ سے۔ آدمی جھوٹے الفاظ بول کر انسانوں کے سامنے اپنی سرخروئی باقی رکھنا چاہتا ہے، اس لئے وہ قسم جیسی تدبیریں اختیار کرتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ آدمی اپنے آپ کو اہل دنیا کے سامنے پاکباز ثابت کرنے میں کامیاب ہو چکا ہوتا ہے، اللہ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ اس کو جہنمی انسانوں کی فہرست میں لکھ لو۔ ناحق کسی کی چیز لینا برا ہے۔ مگر یہ اور بھی زیادہ برا ہے کہ آدمی جھوٹے الفاظ بول کر اپنی اس برائی کو بھلائی ثابت کرے۔ ایسا کرنا خدا پر جسارت ہے۔ یہ جرم پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ ایسا آدمی اپنے بارہ میں ثابت کر رہا ہے کہ وہ اخلاقی کمزوری کے ساتھ بے حسی اور ہٹ دھرمی اور خدا سے کامل بے خوفی جیسے شدید تر امراض میں مبتلا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues