Al-Risala · March 2000 · page 9

عمل اور نیت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۹

عمل اور نیت

صحیح البخاری کا پہلا باب اگرچہ آغاز وحی (كيف كان بدء الوحی الی رسول الله صلی الله عليه وسلم) ہے۔ مگر اہمیت کی بنا پر اس میں سب سے پہلی حدیث نیت سے متعلق درج کی گئی ہے۔ امام البخاری اپنا سلسلہ سند بتاتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ علقمہ بن وقاص اللیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن الخطاب کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول الله صلى الله عليه وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ عمل کا دار و مدار نیت پر ہے۔ ہر آدمی کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس آدمی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے تھی تو اس کی ہجرت اسی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔

کوئی عمل، خواہ بظاہر وہ دینی کیوں نہ ہو، اس کا بدلہ آدمی کو اسی نیت کے اعتبار سے ملتا ہے جس کے تحت اس نے وہ عمل کیا تھا۔ گویا عمل کا مدار آدمی کی اپنی حالت نفسی پر ہے نہ کہ خود عمل کی شکل ظاہری پر۔

مثلاً کلمہ کے الفاظ دہراکر آدمی مومن بنتا ہے۔ مگر ایمان کا مدار محض کلمہ کے صحت تلفظ پر نہیں ہے، بلکہ ایمان کا اقرار کرنے والے آدمی کی قلبی کیفیت پر ہے۔ نماز کا مدار اس کے مسائل ظاہری کی تعمیل پر نہیں ہے بلکہ خود نمازی کے باطنی خشوع پر ہے۔ انفاق کا مدار اس کی مقدار پر نہیں ہے بلکہ اس پر ہے کہ آدمی نے اپنا انفاق خالص الله کے لئے کیا تھا یا اس میں کوئی اور مقصد شامل تھا، وغیرہ۔

آدمی کی جیسی نیت ہواسی کے لحاظ سے اس کی پسند بنتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی کام کی طرف جھکتا ہے جس میں اس کی نیت پوری ہوتی ہو۔ اس کے علاوہ جو کام ہیں ان کی طرف اسے رغبت نہیں ہوتی۔ شہرت چاہنے والا آدمی انھیں کاموں کی طرف دوڑتا ہے جن میں نمائشی پہلوموجود ہو۔ ایک مادیت پسند آدمی انھیں میدانوں میں سرگرم ہوتا ہے جس میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page