انسانی محدودیت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۱۶
انسانی محدودیت
امریکہ کے سفر میں مجھے ایک تاجر کے مکان پر شام کے کھانے کے لئے بلایا گیا۔ یہ ایک بڑے تاجر تھے۔ ان کا تجارتی سرمایہ ایک سو ملین ڈالر تھا۔ کھانے کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ تاجر کی اہلیہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔ مجھے ایک کمرہ میں لے جایا گیا جہاں دو کرسیاں تھیں۔ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد خاتون آئیں اور وہ دوسری کرسی پر بیٹھ گئیں ۔ یہ ایک مغربی خاتون تھیں۔ وہ سر جھکا کر خاموش بیٹھی رہیں۔ میں نے رسمی گفتگو شروع کی تب بھی وہ کچھ نہ بول سکیں۔ آخر کار جو ہوا وہ یہ تھا کہ وہ بے اختیار رونے لگیں اور انگریزی میں یہ کہہ کر چلی گئیں کہ : مولانا صاحب، ہمارے لئے دعا کیجئے ۔
یہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں۔ یہی ان تمام لوگوں کی کہانی ہے جن کو خوشحال کہا جاتا ہے۔ آپ کسی بھی ایسے شخص کو لیجئے جو آپ کو مادی اعتبار سے کامیاب نظر آتا ہو اور پھر اس کو قریب سے جاننے کی کوشش کیجئے ۔ آپ پائیں گے کہ بظاہر ایک پر رونق زندگی کے پیچھے صرف ایک غمناک روح چھپی ہوئی ہے۔
اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ اس دنیا میں آدمی یہ تو کر سکتا ہے کہ وہ مادی سامان اپنے پاس اکٹھا کر لے۔ مگر وہ اپنی اس کمی کو دور نہیں کر سکتا کہ اپنی پیدائشی محدودیت کی بنا پر وہ پر لذت چیزوں سے محظوظ ہونے کی طاقت اس کے اندر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں اصل مسئلہ سامان عیش کی فراہمی نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اپنے تخلیقی ضعف (النساء ۲۸) کی بنا پر انسان یہ استعداد ہی نہیں رکھتا کہ وہ سامان عیش سے انجوائے کر سکے۔ انسان اپنی ساری طاقت مادی خوشی کے حصول میں لگا دیتا ہے۔ حالانکہ موجودہ دنیا میں مادی خوشی کا حصول سرے سے ممکن ہی نہیں۔ موجودہ دنیا جنت کی پہچان (محمد ۶) کے لئے ہے، وہ جنت کی تعمیر کے لئے نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues