انتظار بھی حل ہے
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۱۵
انتظار بھی حل ہے
مختلف زبانوں میں جو مثلیں مشہور ہیں وہ دراصل لمبے انسانی تجربات کے بعد بنی ہیں۔ ان میں سے ہر مثل کامیابی کا ایک یقینی فارمولہ ہے۔ اسی طرح کی ایک انگریزی کہاوت یہ ہے ۔ انتظار کرو اور دیکھو:
Wait and see.
امریکہ کا مشہور رائٹر ہنری ڈیوڈ تھارو (Henry David Thoreau) ۱۸۱۷ء میں پیدا ہوا اور ۱۸۶۲ء میں اس نے وفات پائی۔ اس کا ایک قول ہے کہ ہیرو وہ ہے جو یہ جانے کہ کہاں انتظار کرنا ہے اور کہاں جلدی کرنا ہے۔ ہر بھلائی اس انسان کے حصہ میں آتی ہے جو دانش مندانہ طور پر انتظار کرے:
The hero knows how to wait as well as to make haste. All good abides with him who waiteth wisely. زندگی میں بعض اوقات ایسے لمحے آتے ہیں جب کہ آدمی کو فوری طور پر ایک فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ تاہم اگر آدمی فوری فیصلہ کرنے میں چوک جائے تو اس کے بعد اس کے لئے جو چیز ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ گھبرا کر یا جلد بازی میں بے فائدہ کارروائیاں کرنے لگے۔ اب اس کو انتظار کرنا چاہئے۔ عقلمند وہ ہے جو اس فرق کو جانے کہ کب فوری فیصلہ لینا ہے اور کب معاملہ کو انتظار کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتظار بھی ایک عمل ہے۔ انتظار کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ انتظار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے معاملہ کو فطرت کے نظام کے حوالہ کر دیا۔ وہ خدا کے فیصلہ کا منتظر بن گیا۔
اگر وقت پر صحیح فیصلہ لینا کامیابی ہے تو ناموافق حالات میں انتظار کی پالیسی اختیار کرنا بھی کامیابی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ایک کا نتیجہ حال میں نکلتا ہے اور دوسرے کا نتیجہ مستقبل میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues