Al-Risala · March 2000 · page 19

خطرَہ کہاں ہے

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۱۹

خطرَہ کہاں ہے

ایک عربی پرچہ میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا: الاقليات المسلمة تواجہ خطر الذوبان ۔ یعنی مسلم اقلیتوں کو اس خطرہ کا سامنا ہے کہ وہ اکثریتی فرقہ میں گھل مل جائیں۔

حدیث میں آیا ہے کہ: الاسلام يعلو ولا يعلی (اسلام ہمیشہ غالب رہتا ہے وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتا) فتح الباری ۴۴۱/۳ ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ کی حیثیت عطا فرمائی ہے تو اس کے لیے مغلوب ہونے یا جذب ہو جانے کا خطرہ کیوں محسوس کیا جارہا ہے۔

اس کی وجہ بالکل سادہ ہے اور وہ اسلام اور مسلمانوں میں فرق نہ کرنا ہے۔ کوئی مسلم گروہ اپنے زوال کی بنا پر مذکورہ قسم کے خطرہ میں مبتلا ہو سکتا ہے لیکن اسلام، ایک ربانی نظریہ کی حیثیت سے اس سے ارفع و اعلیٰ ہے کہ اس کو کسی بھی حال میں غیر اسلامی طاقتوں سے مغلوب ہونے یا ان میں جذب ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کے لئے یہ خطرہ پیدا ہو کہ وہ کسی غیر مسلم طاقت سے مغلوب ہو جائیں گے یا اس میں جذب ہو جائیں گے تو پیشگی طور پر سمجھنا چاہئے کہ اس کی وجہ خود مسلمانوں کا اسلام میں کمزور ہونا ہے نہ کہ غیر مسلموں کا ان کے مقابلہ میں طاقتور ہو جانا۔ اس لیے جب بھی اس قسم کا خطرہ پیدا ہو تو مصلحین کو چاہئے کہ وہ خود مسلم نسلوں کو دوبارہ اسلام پر اٹھانے کی کوشش کریں۔ وہ ان کے کیس کو قومی کیس کے بجائے اسلام کا کیس بنا دیں۔ اس کے بجائے غیر مسلم طاقتوں کے خلاف قولی یا عملی ہنگامہ آرائی کرنا ایک غیر متعلق فعل ہے جس کا خدا کی اس دنیا میں کوئی فائدہ نکلنے والا نہیں۔ مسلمانوں کا ہر مسئلہ داخلی کمزوری کا مسئلہ ہے۔ مسلمانوں کے ہر مسئلہ کو صرف داخلی استحکام کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page