Al-Risala · March 2000 · page 20

ترقی کے مواقع

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۲۰

ترقی کے مواقع

1999 کے سروے کے مطابق، ہندوستان میں اس سال کا سب سے زیادہ امیر بنگلور کا ایک مسلمان تھا جس کا نام عظیم ہاشم پریم جی ہے۔ اس سال اس کا سرمایا ۶۱.۷ بلین روپے تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں ترقی کے مواقع لامحدود ہیں۔ حتی کہ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ اقلیتی فرقہ کا ایک فرد ترقی کر کے اکثریتی فرقہ سے آگے بڑھ جائے۔ ۔ (ٹائمس آف انڈیا، ۲۷ جون ۱۹۹۹) ممتاز تعلیمی ادارہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (بمبئی) کے ۲۷ ویں جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر اپنے کانوکیشن ایڈریس میں جناب عظیم ہاشم نے اپنے تجربات بتائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عظیم ہاشم کی ترقی ۲۵ سال کی لگاتار محنت کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے لمبی مدت تک یہ کیا کہ ایک طرف خود اپنی صلاحیتوں کو آخری حد تک اپنے کاروبار میں لگادیا۔ دوسری طرف انھوں نے بار بار سفر کر کے ملک بھر سے اعلیٰ قابلیت کے نوجوان حاصل کئے اور ان کے ذریعہ ایک بہترین ٹیم تیار کی۔ انھوں نے اپنے اور دوسروں کے تجربات سے سبق سیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کا سب سے بڑا راز کبھی ختم نہ ہونے والی سخت محنت ہے۔ اس طرح طویل منصوبہ بند عمل کے ذریعہ انھوں نے اپنی موجودہ کامیابی حاصل کی۔ عظیم ہاشم نے کہا کہ : "مستقبل وہ نہیں ہے جو آپ کے ساتھ پیش آتا ہے بلکہ مستقبل وہ ہے جسے آپ خود بناتے ہیں۔ " اس دنیا میں ہر آدمی وہی ترقی حاصل کر سکتا ہے جو ترقی کسی دوسرے نے حاصل کی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اپنی مطلوب کامیابی کے لئے اس کے مطابق ضروری عمل کیا جائے۔ وہ عمل کیا ہے۔ وہ عمل ہے مقصد کا واضح تصور، اس کو پانے کا عزم مصمم،اپنی اپنی پوری صلاحیت کو اس میں لگادینا، لائق افراد کے ذریعہ متحدہ کوشش کرنا، ہر چیلنج سے نیا حوصلہ لینا، اپنی معلومات میں برابر اضافہ کرتے رہنا، یہی اس دنیا میں کامیابی کے اصول ہیں۔ اور جو آدمی ان اصولوں کو بھرپور طور پر اپنالے اس کے لئے ترقی اتنی ہی زیادہ یقینی بن جاتی ہے جتنا کہ شام کے بعد اگلی صبح کا طلوع ہونا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page