صدی کی شخصیت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۲۴
آخری تاریخ کو یہ متحرک شخصیت خاموش ہوگئی۔ وہ انسانوں سے جدا ہو کر اپنے رب سے جاملی انا للہ وانا اليه راجعون۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی ’’اک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے اندر بیک وقت مختلف اور متنوع خصوصیات موجود تھیں۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانی نے کہا تھا کہ یورپ میں جو کام اکادمی کرتی ہے، وہ ہمارے یہاں ایک آدمی کرتا ہے“۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اس قول کا ایک زندہ نمونہ تھے۔ وہ ایک فرد تھے مگر انھوں نے کئی اداروں کے برابر کام کیا۔ مولانا موصوف نے ایک طرف دار العلوم ندوہ جیسے ادارہ کے ذریعہ مسلمانوں کو علم دین سے بہرہ ور کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف مؤسسہ مطالعات و تحقیقات اسلامی لکسمبرگ جیسے اداروں کے ذریعہ لوگوں کے لئے عصری معرفت کا سامان کیا۔ ایک طرف انھوں نے اپنی موثر تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں میں عملی جوش کو ابھارا اور دوسری طرف انھوں نے اپنی تحریروں کے ذریعہ انھیں گہرے علمی شعور سے آشنا کیا۔
ایک طرف انھوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ مسلمانوں کے ملی تحفظ کا انتظام کیا تو دوسری طرف ”پیام انسانیت“ کی تحریک کے ذریعہ انھیں داعی کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ ایک طرف انھوں نے ردّة ولا ابابکر لھا جیسی کتابوں کے ذریعہ مسلمانوں میں دفاع اسلام کا جذبہ ابھارا اور دوسری طرف ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین جیسی کتابوں کے ذریعہ مسلمانوں کو اپنی تعمیر نو کی طرف متوجہ کیا۔ ایک طرف انھوں نے رابطہ العالم الاسلامی کے اہم رکن کی حیثیت سے عالمی مسلم اتحاد کی کوشش کی اور دوسری طرف رابطہ ادب اسلامی کے صدر کی حیثیت سے مسلمانوں کے اندر علم و ادب کے حصول کا شوق ابھارا۔ ایک طرف انھوں نے مدارس دینیہ کے قیام کے ذریعہ قدیم علوم کو زندہ کیا اور دوسری طرف آکسفورڈ یونیورسٹی کے اسلامک سنٹر کے صدر کی حیثیت سے مسلمانوں کے اندر جدید علوم کے ماہر پیدا کرنے کی کوشش کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues