صدی کی شخصیت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۲۵
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی ذات بہت سی اعلی قدروں کا نمونہ بن گئی تھی۔ ۔انہیں میں سے ایک چیز وہ ہے جس کی بابت کہا گیا ہے کہ ــــ دنیا سے بے نیاز ہو جاؤ، دنیا خود تمہاری طرف دوڑ کر آئے گی۔ مولانا موصوف دنیا کی چیزوں سے بے نیاز ہو گئے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا نے خود اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیا۔
ایک بار ایک عرب سلطان ندوہ (لکھنؤ) آئے۔ ان کے استقبالیہ میں جو جلسہ ہوا اس میں تقریر کرتے ہوئے مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے ایک عرب بزرگ کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا تھا: نعم الامیر علی باب الفقیر و بئس الفقیر علی باب الامیر۔ مولانا موصوف ساری زندگی اہل دنیا سے بے نیاز رہے۔ مگر اہل دنیا نے خود اپنی ساری متاع ان کے سامنے پیش کر دی۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا۔ ان کو بڑے بڑے ایوارڈ دئے گئے، مثلاً کنگ فیصل ایوارڈ اور اسی طرح برونائی اور عرب امارات کے خصوصی ایوارڈ وغیرہ۔ مولانا موصوف کی ذات اس حقیقت کی ایک عملی مثال تھی کہ مال، عہدہ، عزت، سب انسان کے تابع ہیں نہ کہ انسان ان چیزوں کے تابع ہے۔ انسان اگر اپنی انسانیت کو بلند کر لے تو بقیہ تمام چیزیں اپنے آپ اس کو حاصل ہو جائیں گی، بغیر اس کے کہ اس نے ان چیزوں کے لئے براہ راست جدوجہد کی ہو۔
ایک شاعر نے کسی کے بارے میں کہا تھا: وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنی ذات میں ایک عالم تھے۔ ان کی موت بلاشبہ موت العالم موت العالم کی مصداق ہے۔ تاہم قابل اطمینان بات یہ ہے کہ مولانا موصوف نے اپنے پیچھے اپنے شاگردوں کی عظیم تعداد چھوڑی ہے۔ یقین ہے کہ مولانا موصوف کے بعد ان کی تربیت سے فیض یافتہ یہ حضرات اس عربی شعر کا مصداق ثابت ہوں گے : اذا مات منا سید قام سید (جب ہمارا ایک سردار وفات پاتا ہے تو دوسرا سردار کھڑا ہو جاتا ہے)۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues