غلط سوچ کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۲۲
غلط ہے کہ اس ملک کے مسلمان پچھڑ گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ اصل حقیقت برعکس طور پر یہ ہے کہ اس ملک کے تقریباً ہر مسلمان نے ۱۹۷۲ کے بعد ترقی کی ہے۔ میں نے کہا کہ صنعتی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں اور خود ہندوستان میں ایک اقتصادی انفجار (economic explosion) آیا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ایک قسم کا خلاف زمانہ قول ہے کہ مسلمانوں کو اقتصادی اعتبار سے پچھڑا ہوا گروہ بتایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا بیان بظاہر ہی قابلِ رد ہے۔
پھر میں نے اپنی تقریر میں حاضرین کو براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جو مسلمان اس ہال کے اندر موجود ہیں، ان میں سے ہر مسلمان کی اقتصادی حالت ۱۹۷۲ کے مقابلہ میں آج زیادہ بہتر ہے۔ اور اگر آپ میں سے کسی کا معاملہ اس سے مختلف ہو تو وہ کھڑا ہو کر میرے اس بیان کی تردید کرے۔ حاضرین میں سے کسی ایک مسلمان نے بھی یہ نہیں کہا کہ ۱۹۷۲ میں میری جو معاشی حالت تھی اس کے مقابلہ میں آج میری حالت خراب ہو چکی ہے۔
میں نے اس معاملہ کا باقاعدہ سروے کیا ہے اور اپنی کتاب’’ہندوستانی مسلمان‘‘ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق، ہندوستان کا تقریباً ہر مسلم ادارہ، ہر مسلم جماعت، ہر مسجد اور ہر مدرسہ ۱۹۷۲ کے مقابلہ میں آج دگنا اور چوگنا ترقی کر چکا ہے۔ تقریباً ہر مسلم خاندان ۱۹۷۲ کے مقابلہ میں آج زیادہ بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ تعلیم اور اقتصادیات کے میدان میں ہندوستانی مسلمان ۱۹۷۲ کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ یہ ترقی اتنا عام ہو چکی ہے کہ کسی بھی مسلم خاندان کا جائزہ لے کر اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔
اس معاملہ کی ایک چشم کشا مثال وہ ہے جو جولائی ۱۹۹۹ میں سامنے آئی۔ نیویارک کے مشہور اقتصادی میگزین فوربس (Forbes) نے ساری دنیا کے ارب پتیوں کا سروے کیا۔ اس سلسلہ میں اس نے ہندوستان کے ارب پتیوں کا بھی سروے کیا۔ اس سروے کے نتائج فوربس میگزین کے شمارہ ۵ جولائی ۱۹۹۹ میں شائع ہوئے۔ اس کے بعد وہ ہندوستان کے تمام اخباروں، مثلاً ٹائمس آف انڈیا، ہندوستان ٹائمس، وغیرہ میں نقل ہوئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues