غلط سوچ کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۲۱
ہے ۔ ۱۲ جلدوں کی اس کتاب میں اس نے بتایا ہے کہ تاریخ کی تمام بڑی بڑی تہذیبوں کو جو لوگ وجود میں لائے وہ اقلیت میں تھے۔ یہ دراصل اقلیتی گروہ ہے جو تاریخ کے تمام بڑے بڑے واقعات کے پیچھے کام کرتا رہے۔
ٹوئن بی کے مطابق، اس کا اصول یہ ہے کہ اکثریتی گروہ کی طرف سے اقلیتی گروہ کو چیلنج پیش آتا ہے۔ یہ چیلنج اقلیتی گروہ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اکثریتی گروہ کے مقابلہ میں زیادہ کام کرے۔ وہ اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو دوسروں سے زیادہ استعمال کرے۔ حالات کا یہ دباؤ اقلیتی گروہ کو ابھارتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہیروانہ کرداراداکرنے کے قابل ہوجاتاہے ۔ ٹوائن بی نے فطرت کے اس اصول کو تاریخ کی اکیس تہذیبوں کی عملی مثال سے ثابت کیا ہے۔
فطرت کا یہی قانون ہندستانی مسلمانوں پر صادق آتاہے ۔ ۱۹۴۷سے پہلے ہندستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ وہ اپنی سیاسی مصلحت کے تحت ملک کے چھوٹے اور بڑے گروہ کے درمیان ایک موازنہ (بیلنس) قائم کئے ہوئے تھے۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو جب ہندستان آزاد ہوا اور یہاں جمہوری دور آیا تو انگریز کا قائم کردہ موازنہ ٹوٹ گیا۔ اب مسلمانوں کی حیثیت اقلیتی گروہ کی ہوگئی اور ہندوؤں کی حیثیت اکثریتی گروہ کی۔ اس کے بعد ہندستانی مسلمانوں کے لئے بہت سے مسائل پیدا ہو گئے جو انگریزوں کے زمانے میں موجود نہ تھے۔
ہندستانی مسلمانوں کے لئے بظاہر یہ ایک مسئلہ تھا۔ مگر فطرت کے قانون کے مطابق وہ ایک چیلنج تھا۔ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کی چھپی ہوئی قوتوں کو بیدار کرنے کے ہم معنی تھا۔ بیداری کا یہ عمل ابتدائی طور پر ۱۹۴۷ کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ مگر اپنے پہلے دور میں وہ غیرشعوری حالت میں عمل کرتا رہا۔ اس کے بعد دوسرا دور آیا اور بیداری کا یہ عمل شعوری طور پر شروع ہو گیا۔ اب یہ عمل اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ہر جگہ اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے دہلی میں مسلمانوں کا ایک جلسہ ہوا۔ اس کا موضوع تھا: مسلمانوں کا معاشی چھڑا پن کیوں؟ یہاں مختلف مقررین نے اظہار خیال کیا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ مفروضہ بجائے خود
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues