Al-Risala · March 2000 · page 27

ملک کی تعمیر اور مسلمان

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۲۷

رکھتے ہیں۔ اور دوسری طرف مسلمانوں کا ذہن یہ بنا کہ ہندوان کے لئے ایک غیر ہمدرداکثریت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح دونوں ہی فرقے ایک دوسرے کے بارے میں غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا شکار ہو گئے اور وہ مثبت تاریخی واقعہ انجام نہ پاسکا جو حالات نے دونوں کے لئے مقدر کیا تھا۔

وہ واقعہ یہ تھا کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایک دوسرے کو تاریخ کے فیصلے کے طور پر قبول کریں اور فطرت کے اصول پر دونوں کے درمیان صحت مند مقابلہ جاری ہو۔ اگر ایسا ہو تا تو آج ہندوستان بلاشبہ ایک اعلیٰ ترقی یافتہ ملک بن چکا ہو تا، جیسا کہ بہت سے دوسرے ملک اسی حقیقت شناسی کی بنا پر ترقی یافتہ ملک بنے ہوئے ہیں۔

انڈونیشیا کے موجودہ صدر پروفیسر عبدالرحمن وحید سے چند سال پہلے میری ملاقات روم (اٹلی) میں ہوئی ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ انڈونیشیا اور ملیشیا دونوں مسلم ملک سمجھے جاتے ہیں۔ مگر ملیشیا میں زبردست ترقی ہوئی ہے جب کہ انڈونیشیا میں کوئی قابل ذکر ترقی نہ ہو سکی۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔

پروفیسر عبدالرحمن وحید نے جواب دیا کہ اس کا سبب بالکل ظاہر ہے۔ اصل یہ ہے کہ ملیشیا میں مسلمانوں کو ایک طاقتور اقلیت کا سامنا ہے۔ اس بنا پر وہاں مسلسل طور پر مسابقَت (competition) کا ماحول قائم رہتا ہے۔ مسلمان اور غیر مسلم دونوں ہر لمحہ چوکنار ہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اگر غفلت کی تو دوسرا گروہ آگے بڑھ جائے گا، اور وہ اس کے مقابلہ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ مسابقت کے اس ماحول نے وہاں دونوں گروہوں کو ملک کا مفید حصہ بنادیا ہے۔ مسابقت کے اس ماحول کی بنا پر دونوں ترقی کر رہے ہیں اور نتیجہ پوراملک ترقی کے راستہ پر گامزن ہے۔

مگر انڈونیشیا کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کیوں کہ انڈونیشیا میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں۔ اس بنا پر ان کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔ اس صورت حال نے انڈونیشیا کے مسلمانوں کو ایک بے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page