ملک کی تعمیر اور مسلمان
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۲۸
اندیشہ قوم بنادیا ہے۔ چنانچہ وہ سورہے ہیں۔ وہ ملک میں کسی بڑے ترقیاتی عمل کا آغاز نہ کرسکے۔ ہندوستان کا معاملہ بھی تقریباً یہی ہے۔ ہندوستان میں ایک طرف اگر ہندو اکثریت ہے تو دوسری طرف مسلم اقلیت، جو تعداد میں اتنی زیادہ ہے کہ انڈونیشیا کے بعد وہ دنیا کی سب سے بڑی مسلم ملت بن گئی ہے۔
اس صورت حال کا فطری نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ ہندوستان میں دونوں کے درمیان اسی قسم کا صحت مند مقابلہ جاری ہو جس کی ایک مثال ملیشیا میں دکھائی دیتی ہے۔ مگر بد قسمتی سے دونوں ہی گروہ ایک دوسرے کے بارہ میں غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا شکار ہو گئے۔ ہندوؤں نے مسلمانوں کو غیر مطلوب اقلیت سمجھا اور مسلمانوں نے ہندوؤں کو غیر ہمدرد اکثریت۔ اس کے نتیجہ میں دونوں کے درمیان بے بنیاد غلط فہمیوں کا جنگل اگ آيا۔ وہ تاریخ کے پیدا کردہ فطری ماحول میں جینے کے بجائے خود ساختہ مصنوعی ماحول میں جینے لگے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان اور انڈیا دونوں نے تقریباً ایک ساتھ اپنے نئے قومی سفر کا آغاز کیا مگر واقعات بتاتے ہیں کہ جاپان صرف ۲۵ سال کی مدت میں دنیا کی ایک مضبوط اقتصادی طاقت بن گیا۔ جب کہ ہندوستان پچاس سال کی مدت گزارنے کے بعد بھی کوئی قابلِ ذکر ترقی حاصل نہ کر سکا۔
اب ہندوستان نئی صدی کے دور میں قدم رکھ رہا ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں اپنے حالات کا از سر نو جائزہ لیں۔ دونوں ماضی کی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اکیسویں صدی میں اس کو جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کریں۔ اور پھر ہم دیکھیں گے کہ دس سال سے زیادہ مدت نہیں گزرے گی کہ ملک ایک نئے دور ترقی میں اپنا تیز رفتار سفر شروع کر چکا ہوگا۔ کسی مفکر کا قول ہے کہ ہر ناکامی کا آغاز دماغ سے ہوتا ہے اور ہر کامیابی کا آغاز بھی دماغ سے۔ اب دونوں فریقوں کو جو کرنا ہے وہ صرف یہ کہ وہ اپنے مذکورہ نقطہ نظر کو بدل ڈالیں۔ دونوں فرقے ایک دوسرے کو اس نظر سے دیکھنا چھوڑ دیں جس نظر سے وہ پچھلے پچاس سال کے دوران
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues