Al-Risala · March 2000 · page 29

ملک کی تعمیر اور مسلمان

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۲۹

ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ہیں۔ اس کے برعکس دونوں ایک دوسرے کو قومی زندگی کے صحت مند حصہ دار کے روپ میں دیکھیں۔ دونوں ایک دوسرے کے چیلنج کو صحت مند مقابلہ میں بدل دیں۔ دونوں ایک وجود کے دائیں اور بائیں بازو بن جائیں۔ دونوں قومی تعمیر کے عمل میں ایک دوسرے کے ساتھ صحت مند مقابلہ کریں نہ کہ فرقہ وارانہ نفرت کے میدان میں۔ دونوں ملک کے اقتصادی عمل کی مشین میں دندانہ دارپہیہ (cog wheel) کی مانند بن جائیں۔ اور پھر دونوں خود بھی ترقی کریں گے اور ملک کو بھی اعلیٰ ترقی کے دور میں پہنچانے کا سبب بن جائیں گے۔ چیلنج زندگی کی ایک لازمی حقیقت ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے اور کوئی بھی سماج فطرت کے اس نظام سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک، مریضانہ مقابلہ۔ اور دوسرا، صحت مند مقابلہ۔ مریضانہ مقابلہ کا نتیجہ موت ہے اور صحت مند مقابلہ کا نتیجہ زندگی۔ مریضانہ مقابلہ یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو دشمن کی نظر سے دیکھیں۔ وہ ایک دوسرے سے نفرت کریں۔ وہ ایک دوسرے کو مٹا کر اپنا مستقبل بنانا چاہیں۔ اس قسم کا طریقہ گویا فطرت کی تردید ہے۔ وہ تاریخ کے فیصلہ کو قبول نہ کرنا ہے۔ اور جو لوگ ایسا کریں ان کے لئے خدا کی اس دنیا میں تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔

چیلنج کا صحت مند مقابلہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو اپنا شریک سفر سمجھیں۔ دونوں ایسے دو بھائی بن جائیں جو دوڑ کے مقابلہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے ہوں، اس کے باوجود دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لئے نفرت نہ پیدا ہو۔ دونوں مقابلہ کی حالت کو ایک دوسرے کے لئے مہمیز سمجھیں نہ کہ مخالفت اور عداوت۔

ہندوستان میں اعلیٰ ترقی کے لئے اسی قسم کے صحت مند مقابلہ کی ضرورت ہے۔ امریکہ نے اپنے یہاں اسی طرح صحت مند مقابلہ کا ماحول قائم کر کے اعلیٰ کامیابی حاصل کی ہے۔ ہمیں بھی ہندوستان میں اسی ماحول کو زندہ کرنا ہے۔ اسی میں ہر فرقہ کی ترقی ہے اور اسی میں خود ملک کی ترقی بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page