کرنے کا اصل کام
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۳۴
ہیں۔ بلکہ اس کے اصل ذمہ دار وہ نام نہاد اسلامی مفکرین ہیں جنھوں نے ان نوجوانوں کو اسلامی انقلاب کے نام پر ایک ایسا فکر دیا جو عملی طور پر یہی منفی نتیجہ پیدا کر سکتا تھا اور یہی اس نے پیدا کیا۔ اسلام کا طریقہ دعوت کا طریقہ ہے، اس کے بر عکس دوسرا طریقہ سیاست کا طریقہ ہے۔ دعوت کا طریقہ امن کی بنیاد پر چلتا ہے اور سیاست کا طریقہ ٹکراؤ کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے نام نہاد مفکرین نے اسلام کی سیاسی تعبیر کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی تحریک سیاست کی تحریک بن گئی۔ اور پھر غلط طور پر اسلام کے ساتھ وہ تمام نا محمود چیزیں جڑ گئیں جو صرف سیاست اور سیاسی تحریک کا حصہ ہیں۔
دعوت اپنے فطری مزاج کی بنا پر فریق ثانی کو اپنے امکانی دوست کے روپ میں دیکھتی ہے۔ سیاست کا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے۔ اہل سیاست اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر فریق ثانی کو اپنے حریف اور دشمن کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دعوتی عمل سے رحمت کلچر وجود میں آتا ہے اور سیاسی عمل سے صرف نفرت کلچر۔ جس سماج میں رحمت کلچر ہو وہاں ہر قسم کی اچھائیاں فروغ پائیں گی۔ اور جہاں نفرت کلچر ظہور میں آئے وہاں ہر قسم کی برائی اور تشدد پھیلے گا۔ نفرت کے ساتھ کبھی کوئی خوبی کی چیز جمع نہیں ہو سکتی۔
کرنے کا اصل کام
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے موجودہ قسم کی سیاسی ہنگامہ آرائی یا تشدد نہ صرف یہ کہ غیر اسلامی ہے، بلکہ وہ انتہائی حد تک بے فائدہ بھی ہے۔ قریبی ماضی کی تاریخ اس کے ثبوت کے لئے کافی ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، بیسویں صدی کے نصف اول میں بیشتر مسلم ممالک مغربی طاقتوں کے زیر اقتدار تھے، خواہ براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر۔ اس کے بعد آزادی کی تحریکیں چلیں۔ آج یہ تمام مسلم ممالک سیاسی طور پر آزاد ہیں۔ ان ملکوں کی تعداد تقریباً ۶۰ تک پہنچ چکی ہے۔ گنتی کے اعتبار سے اقوام متحدہ کے ممبروں میں سب سے زیادہ تعداد مسلم ملکوں کی ہے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues