Al-Risala · March 2000 · page 35

کرنے کا اصل کام

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۳۵

کے باوجود عالمی سیاسی نقشہ پر مسلمانوں کا کوئی وزن نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں سیاسی اقتدار ہی سب کچھ ہوا کرتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں سیاسی اقتدار کی حیثیت ثانوی بن گئی ہے۔ اب تعلیم اور سائنس اور ٹیکنالوجی اور اقتصادیات کی اہمیت ہے۔ صرف سیاسی طور پر آزاد ہونا آج کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

موجودہ مسلم ممالک چونکہ ان غیر سیاسی شعبوں میں دوسری قوموں سے پچھڑے ہوئے ہیں اس لئے عالمی نقشہ میں ان کا کوئی مقام نہیں۔ ان کے عوام ابھی تک زیادہ ترغیر تعلیم یافتہ ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں وہ ابھی تک مغربی ملکوں کے محتاج ہیں۔ جدید معیار کے اعتبار سے انھیں اقتصادی ترقی حاصل نہیں۔ بظاہر سیاسی اقتدار کا مالک ہونے کے باوجود وہ زندگی کے تمام جدید شعبوں میں پچھڑے ہوئے ہیں۔ وہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں حدیث کے مطابق صرف ید سفلیٰ (نچلا ہاتھ) بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کے باوجود وہ عملاً محکومی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔

مزید چشم کشا مثال یہ ہے کہ بہت سے مسلم ملک ہیں جہاں ان کے دعویٰ کے مطابق مفروضہ اسلامی انقلاب آچکا ہے۔ مثلاً مصر، پاکستان، ایران، مثلاًمصر،پاکستان،ایران،الجزائر،سوڈان،افغانستان،وغیرہ۔ مگر سوڈان، افغانستان، وغیرہ۔ مگر اصل مسئلہ کی نسبت سے یہ نام نہاد اسلامی ممالک بھی انہیں سنگین مسائل کا شکار ہیں جن کا شکار دوسرے مسلم ممالک ہیں جن کو سیکولر کہا جاتا ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ علمی اور اقتصادی شعبوں میں یہ نام نہاد اسلامی ممالک بھی اتناہی پچھڑے ہوئے ہیں جتنا کہ دوسرے سیکولر ممالک۔ اس لئے آج کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کو ان غیر سیاسی شعبوں میں آگے بڑھایا جائے۔ اور بلاشبہ یہ سب غیر سیاسی کام ہیں، ان کا سیاست اور اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔ مزید یہ کہ ان غیر سیاسی کاموں میں عمل کرنا خالص امن کے دائرہ میں ممکن ہے۔ ان میدانوں میں متحرک ہونے کے لئے نہ نفرت پھیلانے کی ضرورت ہے اور نہ تشدد بھڑکانے کی۔ یہ سارے مثبت نوعیت کے کام ہیں، ان کا منفی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page