Al-Risala · March 2000 · page 40

کرنے کا اصل کام

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۴۰

میں سمجھا جاتا ہے کہ انھوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ حالانکہ یہ درست نہیں۔ انھوں نے اپنی زبان سے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ انھوں نے صرف یہ کہا تھا کہ میں مظہر الہیٰ ہوں ۔ اس بنا پر وہ دعویٰ کے درجہ میں بھی اس فہرست میں نہیں آتے۔

اس سلسلہ میں مجھے ذاتی طور پر دو تجربے ہوئے ہیں۔ ۔ پہلاتجربہ نرنکاری مشن (نئی دہلی) کے گر دگر بچن سنگھ (وفات ۱۹۸۰) کے بارے میں ہے۔ ۔ ۱۹۷۵میں نرنکاری مشن کے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے انگریزی میں چھپا ہوا ایک پمفلٹ مجھے دیا۔ اس میں لکھا تھا کہ بابا گر بچن سنگھ وقت کے پیغمبر (Prophet of the Time) ہیں۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ میں آپ کے سنٹر میں آؤں گا اور بابا گر بچن سنگھ میرے سامنے یہ جملہ کہیں کہ میں وقت کا پیغمبر ہوں۔ آپ لوگ بابا جی سے بات کر کے تاریخ اور وقت مقرر کر دیں تا کہ میں اس وقت وہاں پہنچ سکوں۔ ان لوگوں نے بابا جی سے گفتگو کر کے تاریخ اور وقت طے کیا اور پھر مجھے ٹیلی فون پر مطلع کیا۔ اس کے مطابق میں بابا جی کے یہاں پہنچا۔ میں بابا جی کے پاس ۲۵ منٹ تک رہا مگر انھوں نے اپنی زبان سے یہ نہیں کہا کہ میں وقت کا پیغمبر ہوں ، اس کے بجائے وہ ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے، آخر کار میں واپس چلا آیا۔

میرا دوسرا تجربہ شانتی گری آشرم (تروند رم) کے گرو جی کے بارے میں ہے۔ وہ ۶ مئی ۱۹۹۹ کو اپنے آشرم میں انتقال کر گئے۔ مارچ ۱۹۹۹ میں ان کے یہاں ایک کانفرنس ہوئی۔ ان کے کچھ شاگرد دہلی آئے اور مجھ سے مل کر مجھے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ انھوں نے شانتی گری آشرم کے تعارف پر ایک انگریزی پمفلٹ مجھے دیا جس میں یہ لکھا تھا کہ گرو جی وقت کے پیغمبر ہیں۔ میں نے کہا کہ میں آپ کی کانفرنس میں آؤں گا اور میرا خاص مقصد یہ ہوگا کہ میں آپ کے گرو جی سے اس دعویٰ کی بابت سوال کروں۔ وہ خوشی سے راضی ہو گئے۔ میں سفر کر کے شانتی گری آشرم پہنچا جو تریوندرم ایرپورٹ سے تقریباًبیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سوا یکڑ رقبہ میں واقع ہے۔ یہاں میں نے دو دن قیام کیا۔ اس در میان میں گرو جی سے میری دو بار ملاقات

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page