Al-Risala · March 2000 · page 39

کرنے کا اصل کام

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۳۹

سوال

الرسالہ (اردو) دسمبر ۱۹۹۹ کے صفحہ نمبر ۳۴ پر کچھ غیر مسلموں کے استفسار پر کہ ’’پیغمبرِ اسلام آخری پیغمبر ہیں۔ اس کی دلیل کیا ہے‘‘ جواب میں آپ نے ان سے کہا کہ ’’کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا۔ جس نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ یہی واقعہ اس کی تاریخی دلیل ہے۔ ‘‘ ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ماضی میں جن لوگوں نے پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا، ان کے اس دعویٰ کے بارے میں آپ کیا جواز پیش کریں گے۔ مثلاً مسیلمہ کذاب اور غلام احمد قادیانی وغیرہ وغیرہ۔ اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (عبدالقیوم شارق، مرتضیٰ پور، مہاراشٹر)

جواب

میرا کہنا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی شخص نے مستقل بالذات نبوت کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ یعنی کسی نے یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ رسول اللہ کے ہم عصر مسیلمہ بن حبیب الحنفی (وفات ۶۳۳ء) نے مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ: إنی قداشرکت فی الامر معہ۔ سیرة ابن ہشام ۴ / ۲۴۴۔ (یعنی میں محمد کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہوں)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسیلمہ کے دعوے کے مطابق اس کی نبوت کا معاملہ خود پیغمبر کی تصدیق پر منحصر تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے دو آدمیوں کا وفد رسول اللہ کے پاس مدینہ بھیجا تاکہ اپنے بارے میں وہ آپ کی تصدیق حاصل کرے۔ آپ نے مسیلمہ کو کاذب قرار دیا اس کے بعد اس کی نبوت کا دعویٰ اپنے آپ بے بنیاد ثابت ہو گیا۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی (وفات ۱۹۰۸ء) نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اس نے ظلی نبوت ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ یعنی میں محمد کی نبوت کا سایہ ہوں۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیشگی طور پر فرما چکے ہیں کہ: لیس بعدی نبی (صحیح البخاری، کتاب المغازی)۔ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس لئے مرزا غلام احمد کا دعویٰ بھی رسول اللہ کی تصدیق پر منحصر تھا اور آپ کی پیشگی تردید کی بنا پر یہ دعویٰ اپنے آپ باطل قرار پا گیا۔ اسی طرح ایران کے بہاء اللہ (وفات ۱۸۹۲ء) کے بارے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page