کرنے کا اصل کام
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۴۲
آپ تاریخ کی روشنی میں دیکھیں تو معاملہ بالکل مختلف نظر آئے گا۔ یہ ایک مسلم تاریخی حقیقت ہے کہ نبی کی ”بات“ بیان کرنے والوں میں سے سب سے بڑا گر وہ محدثین کا ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ صحابہ کرام کے بعد امت میں سب سے زیادہ عزت و احترام جس کو ملا ہے وہ یہی محدثین کا گروہ ہے۔ حتی کہ آج بھی کسی دار العلوم کے شیخ الحدیث کو جو مقبولیت حاصل ہوتی ہے وہ کسی اور کو نہیں ملتی اصل یہ ہے کہ مذکورہ شعریا اس قسم کی بات کہنے والے دوسرے حضرات ایک مغالطہ کا شکار ہیں۔ وہ ”نبی کی بات“ اور ”نبی کے نام پر اپنی بات“ کے فرق کو نہیں جانتے۔ نبی کی بات کو کہنا یا نبی کے اصل پیغام کو پہنچانا ہمیشہ لوگوں کے درمیان پسندیدہ کام رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ ”نظامِ مصطفیٰ“ کے نام پر تحریکیں چلاتے ہیں اور ان کو مسائل کا شکار ہونا پڑتا ہے اس کا تعلق ”نبی کی بات“ سے نہیں ہے بلکہ نبی کے نام پر حکمرانوں کے خلاف ٹکراؤ کی سیاست چلانے سے ہے۔ اور ٹکراؤ کی سیاست ہمیشہ ٹکراؤ پیدا کرتی ہے۔ ”نظام مصطفیٰ کے خود ساختہ علم بردار لوگ خود اپنی غیر پیغمبرانہ سیاست کی قیمت پارہے ہیں اور اس کو خلاف واقعہ طور پر پیغمبر سے منسوب کرتے ہیں، صرف اس لئے کہ انہوں نے اپنی یہ غیر پیغمبرانہ سیاست پیغمبر کے نام پر چلائی تھی۔ سوال مسلمان اپنے آپ کو ہندو کہلانا کیوں ناپسند کرتے ہیں۔ ہندو کوئی مذہبی شبد نہیں۔ یہ ایک جغرافی شبد ہے۔ بھارت کے جغرافیہ میں جو لوگ رہتے ہیں وہ سب ہندو ہیں، ٹھیک اسی طرح جس طرح جرمنی کے جغرافیہ میں رہنے والے سب جرمن ہیں۔ اس دیش میں ہندو اور مسلمان دونوں ہندو ہیں۔ مسلمان اگر اس بات کو مان لیں تو ہمارے دیش کا سارا جھگڑا ختم ہو جائے اور یہاں سماجی امن قائم ہو جائے (ایم۔ ایس۔ شرما، نئی دہلی)
جواب
جرمنی میں رہنے والے تمام لوگ اس لئے جرمن کہے جاتے ہیں کہ ان کے کانسٹی ٹیوشن میں ایسا لکھا ہوا ہے۔ مگر انڈیاکے کانسٹی ٹیوشن میں ایسا نہیں ۔ اس کے مطابق اس ملک میں رہنے والے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues