Al-Risala · March 2000 · page 43

کرنے کا اصل کام

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۴۳

سب لوگ انڈین یا بھارتی ہیں۔ لہذا جرمن اور ہندو کے معاملہ کو یکساں کیسے بتایا جا سکتا ہے۔ اس معاملہ کی دوسری نظریاتی بنیاد یہ ہوسکتی تھی کہ یہاں کی قدیم کتابوں میں ایسا لکھا ہوا ہو۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، وید یا پران یا گیتا میں یہ لکھا ہوا نہیں ہے کہ اس دیش میں رہنے والے سب کے سب ہندو ہیں۔ بلکہ ہندو کا شبد تو ان کتابوں میں موجود ہی نہیں۔ پھر آخر وہ کون سی نظریاتی دلیل ہے جس کی بنیاد پر ایسا کہا جائے۔

محض کسی کا دعویٰ اس تصور کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ ورنہ دوسرے لوگ بھی ایسا ہی دعویٰ کر سکتے ہیں۔ مثلاً عیسائی لوگ کہہ سکتے ہیں کہ عیسائی ان کا مذہب ہی نام نہیں ہے۔ ان کا اپنااختیارکردہ نام مسیحی یا کرسچین ہے۔ عیسائی دراصل ایک جغرافی شبد ہے اور اس ملک کے رہنے والے سب کے سب عیسائی ہیں۔ اگر محض دعویٰ کافی ہو تو ہر گروہ اس قسم کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ جہاں تک سماجی امن کا تعلق ہے، اس کا ہندو نظریہ سے کوئی تعلق نہیں۔ محض کسی لفظ کے ادل بدل سے سماجی جھگڑے کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ مہاتما گاندھی اور گاڈسے دونوں اپنے کو ہندو کہتے تھے، اس کے باوجود گاڈسے نے گاندھی کو مار ڈالا۔ بہار کے اونچی ذات کے ہندو اور نیچی ذات کے ہندو دونوں اپنے کو ہندو کہتے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ اٹل بہاری باجپئی اور کلیان سنگھ دونوں مذکورہ معنوں میں اپنے کو ہندو بتاتے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں میں اتنا اختلاف پیدا ہوا کہ دونوں الگ الگ ہو گئے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس قسم کے کلچرل اختلاف کو مٹانے کے بجائے اس معاملہ میں ہر ایک کو آزادی دے دی جائے۔ گرو گولوالکر نے درست طور پر کہا تھا کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے: Nature abhors uniformity۔ اور جب خود فطرت ہی میں فرق اور تنوع موجود ہے تو اس کو مٹانا کسی کے لئے ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سماجی امن کا راز کلچرل یکسانیت میں نہیں ہے، بلکہ کلچرل تنوع کو تسلیم کرنے میں ہے۔ اس مسئلہ کے حل کا درست اور قابل عمل فارمولا صرف یہ ہے: ایک کی پیروی اور سب کا احترام: Follow one and respect all

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page