Al-Risala · March 2000 · page 49

Center for Holistic Health and Meditation

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۴۹

مختلف مذہب کے مستند عالموں کو بلا کر انھیں یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کا تعارف پیش کریں۔ چنانچہ اسلام کے تعارف کے لئے صدر اسلامی مرکز کو بلایا گیا۔ ۱۷۔ زی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۳ جنوری ۲۰۰۰ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام اور آتنک واد‘ سے تھا۔ جواب میں کہا گیا کہ آتنک واد کا کوئی بھی تعلق اسلام سے نہیں ہے۔ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔ اور اپنے مقصد کو صرف پر امن ذرائع سے حاصل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

۱۸۔ سیرین میڈیا کے نمائندہ ڈاکٹر وائل الشیخ حسن عوادنے ۱۳جنوری ۲۰۰۰کوصدراسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو انگریزی میں ریکارڈ کیا۔ اس کا سبجکٹ تھا: تقسیم اور ہند پاک تعلقات۔ اس تفصیلی انٹرویو میں جو باتیں کہی گئیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ہندو یا انگریز کو تقسیم کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔ جس لیڈر شپ نے تقسیم کا مطالبہ کیا وہی اس کی اصل ذمہ دار ہے۔ یہ دنیا مسابقت کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی اس انتظار میں ہے کہ آپ اپنے کسی فعل سے اس کو موقع دیں تو وہ اس کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ اس لئے صحیح بات یہ ہے کہ مسلم لیڈر شپ نے موقع فراہم کیا اور پھر دوسروں نے اس کو استعمال کیا۔ مسلم لیڈر شپ کو دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے یہ جاننا چاہئے کہ اس دنیا میں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایسا کوئی فعل نہ کرے جس سے دوسروں کو اسے استعمال کرنے کا موقع مل جائے۔ ۱۹۔ بی بی سی لندن کے لئے مسٹر زبیر احمد نے ۱۳ جنوری ۲۰۰۰ کو لندن سے بذریعہ ٹیلی فون صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم۔ مسیحی تعلقات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں یہ کہا گیا کہ مسیحی لوگ اگر زیادتی کریں تو مسلمانوں کو یکطرفہ طور پر اسے نظر انداز کرنا چاہئے تا کہ دعوت کا ماحول باقی رہے۔ دعوت کا عمل صرف دونوں کے درمیان نارمل تعلقات میں ہو سکتا ہے۔ اور نارمل تعلق کو باقی رکھنے کے لئے سب سے زیادہ ذمہ داری مسلمانوں کو اٹھانا چاہئے کیونکہ ان کی حیثیت داعی کی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues

Printed page