Center for Holistic Health and Meditation
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۴۸
انٹرویو کا موضوع تھا: دنیا کیسے تخلیق ہوئی۔ اس سلسلہ میں انھوں نے قرآن کی آیتوں کی روشنی میں بتایا کہ دنیا کی تخلیق کے بارے میں قرآن میں کیا تصور دیا گیا ہے۔ ۱۴- ان ٹائم ٹی وی نیوز (نئی دہلی) (In Time T. V. News) کی ٹیم نے ۳۰ دسمبر ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ اگلی شتابدی کیسی ہوگی۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ فطرت کا قانون ہمیشہ ارتقاء کی طرف جاتا ہے۔ اس لئے انسان کی تاریخ بھی اگلی صدیوں میں یقینی طور پر ارتقاء کی طرف جائے گی۔ مثال کے طور پر بیسویں صدی میں اقوام متحدہ وجود میں آئی۔ اس طرح حالات بتاتے ہیں کہ اگلی صدی میں روحانیت کا غلبہ اسی طرح ہوگا جس طرح بیسویں صدی میں مادیت کا غلبہ تھا۔ اور یہ قانون فطرت کے تحت ہوگا۔
۱۴۔ دوردرشن (نئی دہلی) نیوز چینل کے لئے یکم جنوری ۲۰۰۰ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ اس کا موضوع تھا: ہائی جیکنگ اور اسلام۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہائی جیکرس کا حکم اسلام میں وہی ہے جو قطاع الطریق (Highway robbers) کا ہے۔ اس قسم کا فعل اسلام میں بلاشبہ جائز نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا گیا کہ جہاد (بمعنی قتال) صرف حکومت کا کام ہے، وہ افراد کا کام نہیں ہے۔
۱۵۔ یکم جنوری ۲۰۰۰ کو مارکیٹ (نئی دہلی) میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کا ایک اجتماع ہوا۔ یہ رمضان کی ۲۲ تاریخ تھی۔ اس نسبت سے روزہ کا حکم اور اس کے روحانی پہلو پر صدر اسلامی مرکز نے ایک تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ روزہ سلف کنٹرول کی ایک سالانہ تربیت ہے۔ حقیقی روزہ وہی ہے جس میں اس کے فارم کے ساتھ اس کی مطلوب اسپرٹ بھی موجود ہو۔ ۱۶۔ شری رام اسکول (گڑگاؤں) میں ۱۲ جنوری ۲۰۰۰ کو طلبہ اور اساتذہ کا ایک خصوصی پروگرام تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اسلام کے تعارف پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے آخر میں سوال و جواب ہوا۔ اسکول کے اس پروگرام کے تحت
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues