Al-Risala · April 2000 · page 7

اہل ایمان

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۷

ہو تا ہے کہ یہ محض ایک سادہ جملہ نہیں بلکہ اس کے اندر ایک انتہائی اہم حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ اسلام کے دور اول میں پیغمبر کی تصویر ، قرآن کے الفاظ میں صرف ایک بشر جیسی تھی۔ وہ لوگوں کو بس محمد بن عبداللہ کے روپ میں دکھائی دیتے تھے۔ لیکن آج آپ کے نام کے ساتھ اتنی زیادہ تاریخی عظمتیں جمع ہو چکی ہیں کہ ایک غیر مسلم محقق بھی مجبور ہے کہ آپ کو تمام پیدا ہونے والے انسانوں میں سب سے بڑا انسان قرار دے۔ گویا آپ کے ابتدائی پیروؤں نے ”محمد بدون تاریخ‘‘ میں آپ کے رسول خدا ہونے کی حقیقت کو دریافت کیا۔ جب کہ آج کا ایک شخص ”محمد بشمول تاریخ‘‘ میں آپ کے رسول خدا ہونے کا اعتراف کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے اولین پیروؤں نے آپ کے رسول خدا ہونے کو اس وقت مانا جب کہ آپ اپنی اضافی حیثیت کے بغیر مجرد روپ میں ان کے سامنے ظاہر ہوئے تھے۔ جب کوئی شخص اس طرح پیغمبر کو اس کی اضافی نسبتوں کے بغیر مجرد روپ میں جان لے تو ایسے آدمی کا ایمان ایک گہری معرفت پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ اس کے لئے ایک عظیم دریافت (Discovery) کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ایسی دریافت آدمی کے پورے وجود میں ایک مکمل فکری اور روحانی انقلاب برپا کر دیتی ہے۔ اس انقلاب کے بعد اس کی جو شخصیت بنتی ہے ، اس کا ذکر آیت کے اگلے الفاظ میں کیا گیا ہے۔

پیروان رسول کی ایک صفت یہ بتائی گئی کہ وہ منکروں پر (اشداء علی الکفار) ہیں۔ یہاں سخت یا شدید کا مطلب کڑا پن یا درشتی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ غیر اہل اسلام کی غیر اسلامی باتوں کا اثر قبول نہیں کرتے۔ عربی میں کہا جاتا ہے : ھو شدید علی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ میرے ساتھ سخت معاملہ کرتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ میرا اثر قبول نہیں کرتا۔ مومن ایک با اصول انسان ہوتا ہے۔ وہ بے اصول لوگوں یا مفاد پرستی کے علمبرداروں سے غیر متاثر ہو کر رہتا ہے۔ وہ خود اپنے طے کردہ اصولوں کی روشنی میں اپنی زندگی کی تعمیر کرتا ہے۔ وہ کبھی کسی خلاف حق رواج کا اثر قبول نہیں کرتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page