اہل ایمان
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۸
وہ آپس میں مہربان ہیں (رحماء بینھم) ـــــ لوگوں سے مہربانی کے ساتھ پیش آنا انسانیت کا اعلیٰ ترین تقاضا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہل ایمان اپنے لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے رحیم و شفیق ہوں۔ اور جب دوسروں سے معاملہ پیش آئے تو وہ ان کے ساتھ اس کے برعکس عمل کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ رحمت و شفقت اہل ایمان کی ایک مستقل اور عمومی صفت ہے جو ایک کے مقابلہ میں ظاہر ہوتی ہے، خواہ وہ اپنا ہو یا کوئی غیر۔
آپس میں مہربان ہونے کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے فرمایا کہ آپس میں مہربان ہونا نسبتاً زیادہ مشکل کام ہے۔ جو آدمی اپنوں کے ساتھ رحمت و شفقت کا معاملہ کرے وہ غیروں کے ساتھ بھی ضرور رحمت و شفقت کا معاملہ کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے لوگوں کے درمیان ہمیشہ ملنا جلنا زیادہ ہوتا ہے۔ ان سے زیادہ معاملات پیش آتے ہیں۔ لین دین کی عملی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس لئے اپنے لوگوں سے اکثر شکایت اور نزاع پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا کہ غیروں کے مقابلہ میں شفقت کا معاملہ اگر سادہ طور پر صرف شفقت کرنے کا معاملہ ہے تو اپنوں کے مقابلہ میں شفقت کا معاملہ شکایت اور نزاع کے باوجود شفقت کا معاملہ۔ اپنوں کے مقابلہ میں رحیم ثابت ہونا زیادہ بڑی جانچ میں پورا اترنا ہے۔ اور یہ ایک فطری بات ہے کہ جو آدمی بڑی جانچ میں پورا اترے وہ چھوٹی جانچ میں بدرجہ اولیٰ پورا اترے گا۔
تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھو گے ـــــ یہ اہل ایمان کی اس کیفیت کی تصویر ہے جو ان کے اندر خدا کی نسبت سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا پر ایمان ان کے لئے خدا کی عظمت کی دریافت کے ہم معنی ہوتا ہے۔ یہ دریافت ان کے سینہ کو خشوع اور تواضع سے بھر دیتی ہے۔ اس کا مظاہرہ بار بار عبادت اور رکوع اور سجود کی صورت میں ہوتا رہتا ہے۔
وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں ــــــ ایمان آدمی کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ ساری طاقتیں صرف ایک خدا کے پاس ہیں۔ وہ دینے والا ہے اور انسان اس سے پانے والا۔ یہ شعور اس کی زندگی میں اس طرح ڈھل جاتا ہے کہ وہ ہر چیز کو خدا کا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues