Al-Risala · April 2000 · page 18

بڑا کام

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۱۸

کام میں وہ اپنے آپ کو وقف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔

کمزوری کی یہ قسم عورتوں میں بھی پائی جاتی ہے اور مردوں میں بھی۔ لوگ پر عظمت کاموں کی طرف دوڑتے ہیں۔ وہ اونچے اونچے منصوبوں پر تقریریں کرتے ہیں۔ مگر وہ کام جو بظاہر چھوٹے نظر آئیں، جن میں شہرت و عظمت کی چاشنی نہ ہو، ان کے بارہ میں وہ بے رغبت بنے رہتے ہیں۔ حالاں کہ اصل کام یہ ہے کہ آدمی اپنی قریبی ذمہ داری کو ادا کرے، خواہ وہ بظاہر کتنی ہی معمولی کیوں نہ دکھائی دیتی ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے دو بڑے محاذ ہیں۔ ایک خارجی اور دوسرا داخلی۔ دونوں یکساں طور پر اہم ہیں۔ ان میں سے کوئی نہ کم ہے اور نہ زیادہ، نہ کوئی افضل ہے اور نہ کوئی غیر افضل۔ زندگی کی صحت مند تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ دونوں محاذوں پر حسن خوبی کے ساتھ عمل کیا جائے۔

خالق نے اسی تخلیقی نقشہ کے مطابق مرد کو خارجی کام کے لئے پیدا کیا ہے اور عورت کو داخلی کام کے لئے۔ خالق نے مرد کو وہ صفات دی ہیں جن کے ذریعہ وہ خارجی کام کو بہتر طور پر انجام دے۔ اسی طرح خالق نے عورت کو وہ مخصوص صفات دی ہیں جو داخلی کام کو بہتر طور پر انجام دینے کے لئے ضروری ہیں۔ جس طرح عمل میں تقسیم کا اصول ہے اسی طرح دونوں جنسوں کی فطری صلاحیت میں بھی تقسیم کے اصول کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ عمل میں تقسیم کا یہ اصول خود خالقِ فطرت نے قائم کیا ہے۔ وہ کسی سماج کا عائد کیا ہوا نہیں۔ ایسی حالت میں تقسیم کے اس نقشہ کو توڑنا سادہ طور پر صرف کسی سماجی روایت کو توڑنا نہیں ہے۔ وہ خود فطرت کے نقشہ کو توڑنا ہے۔ اور فطرت کے نقشہ کو توڑنے کی طاقت کسی میں بھی نہیں۔ ایسی حالت میں ہمارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ فطرت کے نقشہ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے مطابق سماج کا نظام بنائیں، یعنی وہی اصول جس کو ہم نے اپنے دوسرے معاملات میں ہمیشہ سے اختیار کر رکھا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page