بمبئی کا سفر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۱۹
بمبئی کا سفر
میرے بھتیجے شکیل احمد خان انجینئر دوبئی میں رہتے ہیں۔ ان کے صاحبزادے جاوید میاں کی شادی ۱۷ جون ۱۹۹۵ کو بمبئی میں ہوئی ۔ میں شادیوں کی تقریب میں بالکل شریک نہیں ہوتا۔ لوگ بلاتے ہیں تو خاموشی سے ان کے حق میں دعا کر دیتا ہوں اور بس۔ مگر شدید اصرار کی بنا پر مجھے اس تقریب میں شریک ہونا پڑا۔ اس سفر کے دوران جو مختلف تجربات ہوئے، ان کی مختصر رو داد یہاں درج کی جاتی ہے۔
۱۶ جون ۱۹۹۵ کو دہلی سے بمبئی کے لئے انڈین ایرلائنز کی فلائٹ ۴۰۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز کامقرروقت ساڑھے پانچ بجے تھا۔ مگر جہاز پون گھنٹہ کی تاخیر سے روانہ ہوا۔ راستہ میں اس چیز کا تجربہ پیش آیا جس کو عام طور پر ایئر پاکٹ کہا جاتا ہے۔ جہاز جھٹکے کے ساتھ نیچے اوپر ہونے لگا۔ ایک بار ایسا محسوس ہوا جیسے کہ پورا جہاز اچانک دھم سے نیچے آگیا ہو۔ مسافروں کی چیخیں نکل گئیں۔ میں بیٹھا ہوا خاموشی کے ساتھ دعائیں پڑھتا رہا۔ چار منٹ کے بعد اعلان ہوا کہ مسافر اپنی سیفٹی بیلٹ کھول لیں۔ اس کے بعد جہاز حسب معمول پر سکون طور پر پرواز کرنے لگا۔ انڈین ایرلائنز کا فلائٹ میگزین سواگت (جون ۱۹۹۵) دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر لکھنو کے بڑے امام باڑہ کی مسجد کی رنگین تصویر چھپی ہوئی تھی۔ اندر لکھنو کے تاریخی آثار کے بارہ میں ایک تفصیلی اور با تصویر مضمون تھا۔ اس میں سب کے سب مسلم دور کے آثار تھے۔ مضمون کے آخر میں درج تھا کہ لکھنو ملک کے تمام بڑے شہروں سے ہوائی جہاز اور ٹرین اور روڈویز کے ذریعہ جڑا ہوا ہے۔ انڈین ایرلائنز روزانہ لکھنو کے لئے پرواز کرتی ہے: Lucknow is connected by air and rail with all major Indian cities. Indian Airlines have daily flights. (p. 16)
مضمون کے آخر میں یہ جملہ سیاحوں کے اعتبار سے تھا۔ مسلم دور سلطنت کی تاریخی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues