بیسویں صدی کا جائزہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۲۸
پوزیشن میں ہیں۔ کیونکہ ملیشیائی مسلمانوں کو ایک مساوی گروہ کی طرف سے چیلنج درپیش ہے، جب کہ انڈیا کے مسلمانوں کو عددی اعتبار سے ایک بر تر گروہ کا سامنا کرتے ہوئے زندگی کا ثبوت دینا ہے۔ اس فرق کی بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انڈیا کے مسلمانوں میں مقابلے کی اسپرٹ جتنی زیادہ بیدار ہوگی وہ اس سے زیادہ ہوگی جو ملیشیا کے مسلمانوں میں بیدار ہوتی ہے۔
ان حالات کی بنا پر ہندوستانی مسلمان ایک عظیم امکان کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ امکان کہ وہ فطرت کے اشارہ کو سمجھیں اور اس کو استعمال کر کے نہ صرف ہندوستان کے لئے بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک نئے دور کے نقیب بن جائیں۔
بیسویں صدی کا جائزہ
بیسویں صدی میں دنیا کے نقشہ پر کئی قو میں ابھریں جنھوں نے عالم انسانی کی قیادت کا رول ادا کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے تین خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ ۔۔ سوویت یونین، امریکہ، ہندوستان۔ مگر یہ تمام طاقتیں یا تو عملاً نا کام ہو چکی ہیں یا وہ نا کامی کے کنارے کھڑی ہوئی ہیں۔ ۱۹۱۷ میں روس میں کمیونسٹ انقلاب آیا، اس کے بعد سوویت یونین کی شکل میں اس کا ایک عظیم امپائر بن گیا۔ تقریباً ۷۵ سال تک شان وشوکت دکھانے کے بعد اس کا یہ حال ہوا کہ ۱۹۹۱ میں وہ ریت کے محل کی طرح ٹوٹ کر گر گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نظام سر تا سر غیر فطری بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ خدا نے اس دنیا کا نظام مسابقت (Competition) کے اصول پر قائم کیا ہے۔ مگر کمیونسٹ امپائر نے اس کو ختم کر کے ریاستی کنٹرول کی مصنوعی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ یہ نظام اول دن ہی سے قابل عمل نہ تھا۔ کچھ دن تک وہ جبر اور پروپیگنڈہ کے زور پر چلتا رہا۔ اس کے بعد وہ خود اپنی داخلی کمزوری کی بنا پر منہدم ہو گیا۔
امریکی نظام تقریباً دو سو سال سے بدستور ابھی تک چلا جار ہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے ابتدائی دانشوروں نے اس کو صحیح فکری بنیاد یعنی مسابقت کے اصول پر قائم کیا۔ تاہم امریکی نظام میں اول دن سے ایک کمزوری شامل تھی ۔ وہ یہ کہ یہ نظام مذہب اور سیاست کی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues