Al-Risala · January 2000 · page 29

بیسویں صدی کا جائزہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۲۹

تفریق کے اصول پر قائم کیا گیا اس قسم کی تفریق اصولی طور پر غلط ہے مگر وہ کم از کم اقتصادی پہلو سے ایک قابل بقا (sustainable) نظام تھا۔ اس لئے وہ ظاہری ڈھانچے کے اعتبار سے چلتا رہا اور بظاہر اب بھی چلا جا رہا ہے۔

تاہم گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ امریکی نظام اب آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہو رہا ہے۔ اس زوال کا نمایاں مظاہرہ ۹۸۔ ۱۹۹۹ میں موجودہ امریکی صدر بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی (Monica Lewinsky) کے واقعہ کی صورت میں ہوا۔ مونیکا لیونسکی واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس کی ایک نوجوان کارکن تھی۔ کلنٹن نے اس سے خفیہ جنسی تعلق قائم کر لیا۔ جب یہ راز افشا ہو گیا تو صدر کلنٹن نے دو اور غلطیاں کیں۔ ایک دروغ حلفی (purjury) اور دوسرے انصاف میں رکاوٹ ڈالنا۔ ۱۳ ماہ تک اسمبلی کی سطح پر کیس چلتا رہا یہاں تک کہ ۱۲ فروری ۱۹۹۹ کو ممبران کی کثرت رائے سے کلنٹن کو بری کر دیا گیا۔

اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ امریکی عوام کی تقریبا ۷۵فیصد تعداد صدر کلنٹن کے مواخذہ (impeachment) کے خلاف تھی ۔ امریکی عوام کی رائے یہ تھی کہ صدر کلنٹن نے امریکی اقتصادیات کو بہتر بنایا ہے ایسی حالت میں اگر ان کی ذاتی زندگی غیر اخلاقی ہو تو ہمارے لئے وہ قابل لحاظ نہیں۔ امریکی عوام کے اس رجحان کی بنا پر صدر کلنٹن کے خلاف مواخذہ کی تحریک ناکام ہو گئی۔

۲۰۰ سال پہلے امریکہ نے سیاست کو مذہب سے جدا کیا تھا۔ اب یہ ثابت ہوا کہ امریکی قوم نے مزید آگے بڑھ کر اخلاقی اقدار (moral values) کو بھی اپنی سیاسی اور قومی زندگی سے الگ کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ دوسری علیحدگی اتنے بڑے پیمانہ پر ہوئی ہے کہ نہ صرف امریکی عوام بلکہ ساری دنیا کے لوگوں نے اس کو جان لیا۔ بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کا یہ قصہ ایک ایسے زمانہ میں پیش آیا جب کہ دنیا میڈیا اور انٹرنیٹ کے دور میں داخل ہو چکی تھی۔ چنانچہ پورے ایک سال تک یہ معاملہ ہر روز لوگوں کے سامنے آتا رہا۔ دنیا میں بسنے والاتقریباًہر شخص اس کو جان گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page