Al-Risala · April 2000 · page 36

Silence is unbearable repartee.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۳۶

یہ بات درست نہیں۔ جس چیز کو اسلام کے خلاف میڈیا کا پروپیگنڈہ کہا جاتا ہے۔ اس کے ذمہ دار تمام تر خود مسلمان ہیں۔ میڈیا کےا ہے؟ وہ واقعات کی رپورٹ کی انڈسٹری ہے۔ مسلمان جگہ جگہ اسلام کے نام پر متشددانہ تحریکیں چلا رہے ہیں۔ میڈیا اسی کی رپورٹ کرتا ہے۔ چونکہ یہ مسلمان اپنی متشددانہ تحریکوں کو اسلام کے نام پر چلاتے ہیں اس لئے میڈیا بھی ان کو اسلام کے نام سے منسوب کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ مسلمان جو تشدد اسلام کے نام پر کریں گے اس کی رپورٹ بھی اسلام ہی کے نام پر کی جائے گی۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ یا تو وہ اپنا یہ بے فائدہ تشدد ختم کر کے پرامن ذرائع سے کام کریں۔ یا وہ اپنی متشددانہ تحریکوں کو اسلام اور اسلامی جہاد کے نام پر نہ چلائیں۔ اس کے بعد انھیں میڈیا سے یہ شکایت بھی نہ ہوگی کہ میڈیا اسلام کو بدنام کر رہا ہے۔ سوال مذہب اور انسان کے بارے میں میرا نظریہ یہ ہے کہ مذہب صرف ایک پہچان کی چیز ہے، یعنی یہ کہ ہم فلاں مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں تک اس کا تعلق ہے کہ کون کیا کر رہا ہے تو اس سے کوئی مطلب نہیں رکھنا چاہئے۔ البتہ ہم دوسروں کی جتنی مدد کر سکیں وہ ہم کو کرنا چاہئے۔ میرے نزدیک انسان کا اصل مقصد خدمت انسانیت ہے۔ اور سب سے بڑا مذہب انسان کی خدمت کرنا ہے۔ مذہب اور انسان کے بارے میں میرے یہ نظریات ہیں۔ براہ کرم آپ اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں اور بتائیں کہ کیا میرے یہ نظریات درست ہیں۔ (محمد قاسم خاں، نئی دہلی) جواب سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ موجودہ دنیا میں کسی مذہب کو درست مذہب قرار دینے کے لئے صحیح معیار (criterion) کیا ہے۔ وہ صرف ایک ہے۔ اور وہ خالق کائنات کا تخلیقی نقشہ ہے۔ یہ تخلیقی نقشہ ہمیں قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ اس تخلیقی نقشہ کے مطابق، اس دنیا کے لئے ایک ہی مذہب درست مذہب ہے، اور وہ مذہب مذہب توحید ہے۔ یعنی ایک اللہ کو اپنے خوف اور محبت کے جذبات کا مرکز بنا کر اس کے مطابق زندگی گزارنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page