Silence is unbearable repartee.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۳۵
ایک طوفانی دریا کے اوپر پل ہو اور آپ اس پل سے گزریں تو آپ دریا کی ہولناک موجوں کو دیکھیں گے لیکن آپ اس کے اوپر سے صحیح و سلامت گزر جائیں گے۔
سوال
آپ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ آج ہمارے لئے یہ موقع ہے کہ ہم آزادی کے ماحول میں اسلامی دعوت کا کام کر سکیں۔ مگر واقعات اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ کوسوو، بوسنیا، سیریا، مصر، عراق، برما، کشمیر، فلسطین، امریکہ، میں کیا ہو رہا ہے۔ ہر جگہ مسلمان ظلم و زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ہر طرح کی زیادتیاں کی جا رہی ہیں۔ پھر مذہبی آزادی کہاں ہے۔ یہ سوال ہم کو بذریعہ انٹرنیٹ مائیکل شمڈت (Michael Schimidt) کی طرف سے موصول ہوا ہے۔
جواب
اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ جن ملکوں میں مسلمانوں کو مذہبی زیادتی کا سامنا پیش آ رہا ہے وہاں یہ مسئلہ کب سے پیدا ہوا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کی طرح ان ملکوں میں بھی مسلمانوں کو مکمل امن اور آزادی حاصل تھی۔ اس کے بعد ان کے درمیان کچھ ناعاقبت اندیش لیڈر اٹھے جنھوں نے جذباتی نعروں کے ذریعہ مسلمانوں کو بھڑکایا اور انھیں مقامی حکمرانوں سے ٹکرا دیا۔ جب ایسا ہوا تو اس کے بعد وہ مسائل پیدا ہوئے جن کو آپ مذہبی زیادتی کے مسائل کہتے ہیں۔ مذکورہ ملکوں میں سے ہر ملک کا معاملہ یہی ہے۔ ان مقامات پر مسلمانوں کو یہ کرنا تھا کہ وہ ملک اور مال کے نام پر سیاسی جنگ نہ چھیڑتے۔ وہ ملی ہوئی آزادی کو استعمال کرتے ہوئے دعوتی اور تعمیری کام کرتے تو یقینی طور پر انھیں ان زیادتیوں کا شکار نہ ہونا پڑتا جن کا ذکر آپ اخباروں میں دیکھتے ہیں۔ مذکورہ سوال میں امریکہ کی مثال بھی دی گئی ہے۔ سائل کے نزدیک وہاں کے مسلمان میڈیا کے شدید مخالفانہ پروپیگنڈوں کاشکار ہورہے ہیں: Muslims are under a heavy media propaganda campaign.
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues