Al-Risala · April 2000 · page 39

It is like transfering of seat from God to man.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۳۹

اقبال کی غلطی ہے۔ ان کا یہ سمجھنا درست نہ تھا کہ اشعار کے ذریعہ وہ قوم کے اندر کوئی حقیقی بیداری لا سکتے ہیں۔ شعر ایک لفظی آرٹ ہے۔ وہ انسان کے لئے صرف ذہنی تفریح کا سامان بن سکتا ہے۔ شعر کسی حقیقی اصلاح کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پیغمبر اسلام کے لئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو شعر نہیں سکھایا اور وہ اس کے لئے مناسب نہیں (یس ۶۹) مصلح یاداعی نثر کی زبان میں کلام کرتا ہے۔ شعر کی زبان مصلح اور داعی کی زبان نہیں۔ لوگ عام طور پر تفریح پسند ہوتے ہیں۔ اس لئے تفریحی کلام تیزی سے لوگوں میں مقبول ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں سنجیدہ نثر لوگوں کے درمیان بہت کم مقبول ہوتی ہے۔ مگر مذکورہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی اصلاح کا کام ہمیشہ نثر کی زبان میں ہوتا ہے نہ کہ ردیف اور قافیہ کی زبان میں۔

سوال

میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آپ بھا چا اور آر۔ ایس۔ ایس کے آدمی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ آپ کو اپنے جلسوں میں بہت بلاتے ہیں، اس کی حقیقت کیا ہے۔ (ایک قاری الرساله، دہلی)

جواب

یہ سراسر بہتان ہے۔ میرا مقصد اسلامی دعوت ہے اور اس مقصد کے لئے میں مسلمانوں کے اجتماعات کے علاوہ غیر مسلموں کے جلسوں میں بھی جاتا ہوں۔ مگر وہ صرف بھا چا اور آر ایس ایس کے جلسے نہیں ہوتے بلکہ ان کا تعلق ہر مذہب کے لوگوں سے ہوتا ہے۔ مثلاً ہندو، عیسائی، مثلاًہندو،عیسائی،جینی،سکھ،بودھ سکھ، بودھ وغیرہ۔ آپ اگر اس معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو آپ یہ کریں کہ ماہنامہ الرسالہ میں پچھلے دس سال کا خبر نامہ پڑھیں۔ آپ کو خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ میں کن لوگوں کے جلسوں میں جاتا ہوں۔ جو لوگ میرے بارے میں مذکورہ قسم کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں وہ بلاشبہ ایک فعل حرام کا ارتکاب کررہے ہیں۔ آخرت میں ان کی بہت شدید پکڑ ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page