It is like transfering of seat from God to man.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۴۰
غلط فہمی
قرآن میں ایک موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا (الاحزاب ۳۷) سبب نزول یا وقتی انطبا ق کے اعتبار سے اس آیت کا تعلق زینب اور زید کے معاملہ سے ہے۔ مگر تو سیعی انطباق کے اعتبار سے قرآن کی یہ آیت ایک اصول حیات کو بتاتی ہے۔ وہ یہ کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک بات آدمی کے دل میں ہوتی ہے مگر وہ اس کو اپنی زبان سے ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں اس اصول کی ایک مثال یہ ہے کہ خلافت کے لئے آپ اپنے بعد حضرت ابو بکر صدیق کو سب سے زیادہ اہل سمجھتے تھے۔ مگر آپ نے کبھی اپنی زبان سے اس کا صراحتاً اظہار نہیں فرمایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کو یقین تھا کہ آپ کے بعد آپ کے اصحاب خود ہی اس مطلوب فیصلہ تک پہنچ جائیں گے۔ حضرت ابو بکر صدیق کی موجودگی میں وہ کسی اور کو اپنا امیر یا خلیفہ نہیں بنائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد جب امارت کا سوال پیدا ہوا تو صحابہ نے تقریباً اتفاق رائے سے حضرت ابو بکر صدیق کو اپنا خلیفہ چن لیا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اس نظیر کے باوجود خلیفہ اول نے اس معاملہ میں اجتہاد سے کام لیا۔ اپنے بعد خلیفہ دوم کے معاملہ کو انھوں نے عمومی انتخاب کے اوپر نہیں چھوڑا بلکہ صراحت کے ساتھ حضرت عمر فاروق کو اس منصب کے لئے نامزد فرما لیا۔
اس کا سبب یہ تھا کہ لوگوں کو حضرت عمر فاروق کے بارے میں ایک سخت قسم کی غلط فہمی تھی۔ حضرت عمر فاروق کے مزاج میں شدت تھی۔ لوگ حضرت عمر فاروق کے اخلاص اور قربانی کے معترف تھے۔ مگر ان کو یہ اندیشہ تھا کہ ایک ایسا آدمی خلافت کے نازک منصب کے لئے موزوں نہیں جس کے اندر شدت اور تنقید کا مزاج پایا جائے۔ حضرت عمر فاروق کے بارے میں لوگوں کی اسی غلط فہمی کی بنا پر خلیفہ اول کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر انہوں نے خود سے عمر فاروق کو نامزد نہیں کیا تو آپ کے بعد مسلمان شاید ان کو اپنا امیر بنانے پر اتفاق نہ کر سکیں گے اور اس طرح عین
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues