Al-Risala · April 2000 · page 42

It is like transfering of seat from God to man.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۴۲

میں کہا کہ ان کا اندر ان کے باہر سے بہتر ہے۔ اسی طرح حضرت ابو بکر نے لوگوں کی شکایات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمر پر جب خلافت کی ذمہ داری آئے گی تو وہ اپنے آپ نرم ہو جائیں گے۔ (الکامل فی التاریخ لابن الاثیر جلد ۲ صفحہ ۴۲۵)

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلط فہمی کتنی خطرناک چیز ہے۔ غلط فہمی کی بنا پر آدمی یک شخص کے بارے میں بالکل الٹی رائے قائم کر لیتا ہے۔ حالانکہ وہ شخص اس غلط رائے سے بالکل پاک ہوتا ہے۔ اس قسم کی منفی رائے غلط فہمی میں مبتلا ہونے والے کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے۔ باہر کی دنیا میں سرے سے اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ یہ غلط فہمی بلا شبہ ایک سنگین قسم کا اخلاقی جرم ہے۔ ہر آدمی پر لازم ہے کہ اس جرم سے اپنے آپ کو بچائے۔

۱۔ غلط فہمی سے بچنے کے لئے سب سے زیادہ ضروری تدبیر یہ ہے کہ آدمی محض سن کر کسی بات پر یقین نہ کرے۔ سنی ہوئی بات اکثر غلط ہوتی ہے۔ کسی معاملہ کی صحیح رپورٹ دینا بے حد مشکل کام ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ بہت کم ہوتے ہیں جو کسی واقعہ کو ٹھیک ویسا ہی بیان کریں جیسا کہ وہ ہے۔ اگر ایک آدمی کے دل میں دوسرے آدمی کے خلاف غلط فہمی پیداہوجائے تو فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ غلط فہمی میں مبتلا ہونے والا شخص اس آدمی سے ملے اور خود صاحب معاملہ سے تحقیق کرے۔ براہ راست تحقیق کے بغیر کسی کے بارے میں بری رائے قائم کرنا سخت گناہ ہے۔ ۲۔ جو آدمی غلط فہمی میں مبتلا ہو اس کے اوپر یہ فرض ہے کہ اس نے جس طرح کسی کے بارہ میں ایک بری رائے قائم کی ہے اسی طرح وضاحت کے بعد وہ اس بری رائے کو اپنے دماغ سے نکالے اور اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ذہن کی اصلاح کرلے۔ جس آدمی کے اندر غلطی کے اعتراف کا مادہ نہ ہو اس کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ کسی کے بارے میں غلط رائے کو اپنے ذہن میں جگہ دے۔

تجربہ بتاتا ہے کہ غلط فہمی اکثر حالات میں بے بنیاد ہوتی ہے۔ آدمی ایک طرفہ رپورٹ یا ناقص معلومات کی بنیاد پر ایک بری رائے قائم کر لیتا ہے۔ حالانکہ اگر کھلے ذہن کے ساتھ تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہاں سرے سے ایسی کوئی چیز موجود ہی نہ تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page