It is like transfering of seat from God to man.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۴۱
وہی شخص مسلمانوں کا امیر بننے سے رہ جائے گا جو اپنی خصوصی اہلیت کی بنا پر مسلمانوں کی پوری جماعت میں امیر یا خلیفہ بننے کا سب سے زیادہ اہل ہے۔
مگر یہ غلط فہمی سراسر بے بنیاد تھی۔ اصل حقیقت برعکسی طور پر یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق ان انتہائی نادر انسانوں میں سے تھے جن کو تاریخ ساز انسان کہا جاتا ہے۔ مگر اس غیر معمولی صفت کے باوجود بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا تھا کہ خلیفہ دوم کے منصب کے لئے لوگ ان کے نام پر متفق ہو جائیں گے۔ یہی اندیشہ تھا جس کی بنا پر خلیفہ اول کو اس معاملہ میں پیشگی نظیر کے باوجود اجتہاد کرنا پڑا۔ چنانچہ انھوں نے ذاتی مداخلت کرتے ہوئے عمر فاروق کو اپنے بعد خلافت کے لئے نامزد کر دیا۔ حضرت عمر فاروق کے بارہ میں لوگوں کی یہ رائے تمام ترغلط فہمی پر مبنی تھی۔ حضرت عمر فاروق بے حد اصول پسند انسان تھے۔ وہ حق کے معاملہ میں مصالحت کو گوارہ نہیں کرتے تھے۔ اس چیز نے ان کے مزاج میں شدت پیدا کر دی تھی۔ وہ جب بھی کس کو کوئی غلط بات کہتے ہوئے یا غلط کام کرتے ہوئے دیکھتے تو وہ اس پر سخت تنبیہہ و تنقید کرتے۔ وہ جس چیز کو حق سمجھتے اس کے اعلان میں وہ کبھی کسی کی رعایت نہیں کرتے تھے۔ اس بنا پر لوگ ان سے دور رہنے لگے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ نے فرمایا خدا عمر پر رحم کرے، ان کا کوئی دوست نہیں۔
مگر حضرت عمر کے بارے میں لوگوں کا یہ احساس تمام ترغلط فہمی پر مبنی تھا۔ حضرت عمر فاروق کی شدت صرف ناحق کے خلاف ہوتی تھی نہ کہ کسی انسان کے خلاف۔ وہ عین اس وقت بھی انسان کے خلاف نفرت سے خالی ہوتے جب کہ وہ اس کی تنبیہہ کر رہے ہوتے تھے۔ ان کے دل میں عین اس وقت بھی انسان کے لئے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا تھا جب کہ بظاہر وہ اس کے خلاف غصہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ ان کی ہر سختی میں ایک نرمی چھپی ہوتی تھی۔ ان کی ہر تنقید کے پیچھے محبت کا جذبہ کار فرما ہوتا تھا۔
عام لوگ اس نازک فرق کو نہ سمجھ سکے۔ اس لئے انہیں حضرت عمر فاروق کے بارے میں سخت غلط فہمی پیداہوگئی تاہم جو لوگ زیادہ باشعور تھے وہ اس راز کو سمجھتے تھے۔ چنانچہ جب لوگوں نے حضرت عثمان سے حضرت عمر فاروق کی شکایت کی تو حضرت عثمان نے ان کے بارے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues