It is like transfering of seat from God to man.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۴۴
قائم کرنا ضروری ہو تو اس کی تحقیق کا حق ادا کرے۔ رائے قائم نہ کرنے پر کسی کی کوئی پکڑ نہیں۔ مگر رائے قائم کرتے ہی آدمی خدا کی پکڑ کی زد میں آ جاتا ہے۔ رائے قائم نہ کرنے والا معذور قرار دیا جا سکتا ہے۔ مگر مخالفانہ رائے قائم کرتے ہی اس کا عذر ختم ہو جاتا ہے۔ اب اس کا معاملہ یہ ہو جاتا ہے کہ یا تو وہ دوسرے کے بارے میں اپنی مخالفانہ رائے کو دلیل سے ثابت کرے، یا خود اسی چیز کا مجرم بنے جس کا الزام وہ بے بنیاد طور پر دوسرے کو دینا چاہتا تھا۔
۴۔ غلط فہمی یا بدگمانی کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ بے حد ذمہ داری کی بات ہے۔ اگر آپ کسی کے خلاف براگمان کرلیں تو آپ اپنے کو اس خطرہ میں مبتلا کر رہے ہیں کہ اگر فریق ثانی برانہ ہو تو خدا کی نظر میں آپ خود اسی برائی کے ذمہ دار قرار پائیں، جس کا ذمہ دار آپ دوسرے کو سمجھے ہوئے تھے۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يرمی رجل رجلاً بالفسق ولا يرميه بالكفر إلا ارتدتّ عليه إن لم يكن صاحبه كذالك (مسند احمد (۱۸۱/۵) یعنی جب کوئی شخص کسی کے اوپر فسق کا الزام لگائے یا اس کے اوپر کفر کا الزام لگائے تو اس کا الزام خود اسی کی طرف لوٹ آئے گا اگر دوسرا شخص ویسانہ ہو۔ بے بنیاد غلط فہمی بھی بلاشبہ ایک الزام کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ کسی کے بارے میں ایک ایسی غلط فہمی میں مبتلا ہونا ہے جو باعتبار واقعہ درست نہیں۔ ایسی حالت میں غلط فہمی یا بدگمانی سے بچنا خود اپنے فائدے کے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔ وہ آدمی کا خود اپنا مسئلہ بن جاتا ہے۔ کیوں کہ فریق ثانی میں اگر وہ برائی نہ ہو تو خود بدگمانی کرنے والا اس کا مجرم قرار پائے گا۔ یہ حدیث رسول بے حد سنگین ہے۔ اس کا تقاضہ ہے کہ آدمی غلط فہمی یا بدگمانی کے معاملہ میں آخری حد تک سنجیدہ ہو جائے۔ غلط فہمی اگر سادہ نوعیت کی ہو مثلاً آپ کسی کے بارے میں یہ رائے قائم کریں کہ وہ جلد غصہ میں آ جاتا ہے تو اس میں اس کے لئے کوئی بڑا خطرہ نہیں۔ لیکن اگر کسی کے بارے میں غلط فہمی کی بنا پر ایسی سنگین رائے قائم کر لی جائے جو اخلاقی یا شرعی جرم کی حیثیت رکھتی ہو تو ایسی صورت میں معاملہ بے حد سنگین ہو جائے گا۔ ایسی سنگین غلط فہمی گویا دو دھاری تلوار ہے، وہ اگر فریق ثانی کو نہ کاٹے تو خود آپ کی ہلاکت کا سبب بن جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues