Al-Risala · April 2000 · page 45

It is like transfering of seat from God to man.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۰، صفحہ ۴۵

خبر نامہ اسلامی مرکز ۴۵

ا۔ مسٹر جیت شنی (انجینئر) محکمہ بجلی، بمبئی، خدا کے وجود کو نہیں مانتے تھے۔ پھر الرسالہ کے ایک قاری جناب ولی محمد انصاری (دھولیہ) نے ایک روز انگریزی کتاب گاڈ آرائرز ان کو دی۔ اس کو پڑھ کر وہ اتنا متاثر ہوئے کہ انھوں نے کافی محنت کر کے اس کا مکمل ترجمہ اپنی مادری زبان مراٹھی میں کر ڈالا۔ اب یہ مراٹھی ترجمہ الرسالہ فورم، بمبئی کی طرف سے چھپ گیا ہے۔ یہ ۲۴۶صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کا نام ” دھر اماپڑھیل آوادھان“ ہے۔ جو صاحب اس کتاب کو حاصل کرنا چاہیں وہ گاڈ آرائرز (مذہب اور جدید چیلنج) کا یہ مراٹھی ترجمہ اس پتہ سے حاصل کر سکتے ہیں: کلثوم کتاب گھر۔ مولانا بابا لین، جامع مسجد باند ره (ویسٹ) بمبئی ۵۰۰۰۵۰، فون نمبر 6425201۔

۲۔ ۳ ستمبر ۱۹۹۹ کو اردو ٹائمنز، بمبئی کے نمائندہ نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی پالیسی سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ سیاسی پالیسی اس کا نام نہیں کہ الکشن کے دوران کسی پارٹی کی حمایت میں یا کسی پارٹی کے خلاف ووٹ دیا جائے۔ عملی سیاسی پالیسی کی تشکیل سے پہلے شعوری بیداری اور فکری تربیت کی ضرورت ہے۔ ورنہ عملی سیاست بے فائدہ ہو کر رہ جائے گی۔ ۳۔ ہندی اخبار دیس بھاسکر کے نمائندہ نے صدر اسلامی مرکز کا ۲۵ ستمبر کو ایک انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مہاتما گاندھی سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مہاتما گاندھی نے سیاسی آزادی کو اولین ترجیح دی مگر زیادہ صحیح بات یہ تھی کہ تعلیم کو اولین ترجیح دی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے باوجود ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے۔

۴۔ پانچ جنیہ ویکلی کے نمائندہ الوک گوسوامی نے یکم اکتوبر ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام اور جہاد سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ جہاد کی خاص شرطیں ہیں اور جب تک یہ شرطیں پوری نہ ہوں اس کو اسلامی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2000 All issues

Printed page