جنت کی زندگی
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۱۲
جنت کی زندگی
جاپان کے سفر (دسمبر ۱۹۹۰) میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ میں نے کہا کہ موجودہ دنیا عارضی جگہ ہے اور آخرت ابدی قیام کی جگہ۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی ’’جنت‘‘ ابدی دنیا میں تعمیر کرے۔ انہوں نے کہا: انسان کسی راحت یا لذت کی چیز سے تھوڑی دیر کے بعد اکتا جاتا ہے۔ چنانچہ جدید ترقی یافتہ دنیا میں بہت بڑے پیمانہ پر اکتاہٹ (boredom) کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایسی حالت میں ابدی جنت سے کیا فائدہ۔
جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ ہمیشہ سے یہی بات کہتے آ رہے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک مغالطہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ اکتاہٹ استعدادِ تلذذ کے خاتمہ کی بنا پر آتی ہے نہ کہ خواہشِ تلذذ کے خاتمہ کی بنا پر۔
ان حضرات نے یہ فرض کر لیا ہے کہ جب ہم کسی لذت سے انجوائے (enjoy) کرنا چاہتے ہیں تو کچھ دیر بعد اس سے ہمارا جی بھر جاتا ہے۔ اور پھر اس میں ہمارے لئے لذت باقی نہیں رہتی۔ مگر یہ مفروضہ بجائے خود غلط ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے اپنے اندر غیر تسکین پذیر فطرت (insatiable nature) رکھتا ہے۔ انسان کو جو چیزیں مرغوب ہیں، ان سے وہ ابدی طور پر لطف اندوز ہونا چاہتا ہے۔
مگر موجودہ دنیا میں انسان بے شمار محدودیتوں (limitations) کا شکار ہے۔ چنانچہ انسان جب بھی کسی مرغوب چیز سے انجوائے کرنا چاہتا ہے تو تھوڑی ہی دیر کے بعد اس کی محدودیت اس کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے۔ رغبت کے باوجود وہ اس چیز سے انجوائے کرنے کی طاقت کھو دیتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم ایک لذیذ چیز کھاتے ہیں تو اس چیز کی لذت ہمارے لئے ختم نہیں ہوتی بلکہ ہمارا پیٹ بھر جاتا ہے، اس لئے ہم کو اسے چھوڑ دینا پڑتا ہے۔ اسی طرح اکثر دولت مند لوگ رغبت کے باوجود چیزوں کو کھانا چھوڑ دیتے ہیں، کیوں کہ انہیں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues