Al-Risala · January 2000 · page 13

جنت کی زندگی

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۱۳

اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ موٹے ہو کر طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے۔ یہی حال تمام دوسری لذتوں کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکتاہٹ یا بے رغبتی ہماری انجوائے کرنے کی استعداد کی حد ہے نہ کہ خود رغبت کی حد۔

جنت وہ جگہ ہے جہاں نہ صرف یہ ہوگا کہ تمام لذتیں مزید اضافہ کے ساتھ زیادہ مکمل حالت میں انسان کو دی جائیں گی، بلکہ ان لذتوں سے انجوائے کرنے کی استعداد کے سلسلہ میں اس کی محدودیت بھی ختم کر دی جائے گی۔ جنت میں یہ تضاد ختم ہو جائے گا کہ آدمی انجوائے کرنا چاہتا ہے مگر اپنی کسی کمی کی بنا پر وہ اپنی مرغوب چیزوں سے انجوائے نہیں کر پاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنت انسان کے لئے ابدی خوشیوں کی جگہ بن جائے گی۔

دنیا میں آدمی کو جس اکتاہٹ (بورڈم) کا تجربہ ہوتا ہے وہ دراصل ایک تضاد کا نتیجہ ہے۔ آدمی پیدائشی طور پر ایک معیار پسند (idealist) مخلوق ہے۔ وہ چیزوں کو ان کی آئیڈیل صورت میں پانا چاہتا ہے۔ مگر اس دنیا میں ہر چیز غیر معیاری یا غیر آئیڈیل ہے۔ یہاں بورڈم کا اصل سبب یہی ہے۔ آدمی اپنے شوق کے تحت ایک چیز کی طرف دوڑتا ہے۔ اس کو پانے سے پہلے وہ اس فریب میں رہتا ہے کہ یہ عین وہی آئیڈیل چیز ہے جس کا وہ طالب تھا۔ مگر حاصل کر لینے کے بعد جب وہ اس کا تجربہ کرتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کے مطلوب آئیڈیل سے بہت کم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کو تلاش کی لذت تو ملتی ہے مگر یافت کی لذت اسے نہیں ملتی۔ موجودہ دنیا میں آدمی کے لئے فریب لذت ہے اور آخرت میں حقیقی لذت۔ آخرت کی ہر چیز معیاری ہوگی۔ اس بنا پر وہ آدمی کے لئے حقیقی اور لامحدود لذت کا ذریعہ بن جائے گی۔ آدمی جو کچھ چاہتا ہے وہ جنت میں اس کو مزید اضافہ کے ساتھ مل جائے گا، اس لئے وہاں اس کے لئے اکتاہٹ کا کوئی سوال نہ ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page