مشاہدات دکن
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۴
مشاہدات دکن
مجلس دعوت اسلامی کے ایک پروگرام کے تحت حیدر آباد دکن اور آندھرا پردیش کے بعض دوسرے علاقوں کا سفر ہوا۔ ۶ فروری ۲۰۰۰ کی صبح کو انڈین ایرلائنز کی فلائٹ نمبر ۹۴۰ کے ذریعہ دہلی سے روانگی ہوئی۔ پروگرام میں شرکت کے بعد ۸ فروری کی صبح کو دوبارہ انڈین ایرلائنز کی فلائٹ نمبر ۹۳۹ کے ذریعہ دہلی واپسی ہوئی۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ ٹھیک انہی تاریخوں میں ماؤنٹ ابو میں برما کماری مشن کی طرف سے ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ مجھے اس کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ منتظمین کا سخت اصرار تھا کہ میں اس میں شرکت کروں اور وہاں اسلام کی نمائندگی کروں۔ حتی کہ سفر کے انتظامات انھوں نے میرے رفیق سفر کے ساتھ مکمل کر دئے تھے۔ مگر میں دونوں میں سے کسی ایک ہی کو اختیار کر سکتا تھا۔ چنانچہ میں نے ماؤنٹ ابو کو چھوڑ کر موجودہ سفر کا انتخاب کیا۔ اس انٹر ریلیجس کانفرنس میں مجھے اسلام کے نقطہ نظر سے حسب ذیل موضوع پر بولنا تھا:
Spiritual Empowerment
میرا یقین ہے کہ سب سے بڑی طاقت روحانی طاقت ہے۔ روحانیت آدمی کو سب سے زیادہ طاقتور بناتی ہے۔ مگر روحانی طاقت سے مراد کوئی پراسرار طاقت نہیں۔ یہ ایک معلوم انسانی وصف ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ روحانی وصف پیدا ہو جائے وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ تشدد کو استعمال کئے بغیر محض اپنے روحانی کلمات یا اپنے روحانی سلوک سے کسی آدمی کے دل و دماغ پر اتنا اثر ڈالے کہ وہ مسخر ہو کر رہ جائے۔
۶ فروری ۲۰۰۰ کی صبح کو فجر سے کچھ پہلے گھر سے روانگی ہوئی۔ ایئرپورٹ روڈ دہلی کی سب سے اچھی سڑک سمجھی جاتی ہے۔ مگر ترقی یافتہ ملکوں کی سڑکوں کے مقابلہ میں وہ ایک معمولی سڑک تھی۔ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد جو لوگ ہمارے ملک میں حکمراں بنے وہ شاید اس راز کو نہیں