Al-Risala · May 2000 · page 5

Spiritual Empowerment

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۵

جانتے تھے کہ کسی ملک کی ترقی کے لئے سب سے بڑا عامل اچھا انفراسٹرکچر (infrastructure) ہے۔ یعنی سڑکیں اور اس قسم کے دوسرے معاون وسائل کا معیاری ہونا۔ اچھا انفراسٹرکچر موجود ہو تو آدمی خود ہی ترقی کی طرف دوڑتا ہے۔ مگر ہمارے پر جوش حکمران دوسری غیر متعلق سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر پچاس سال گزر جانے کے بعد بھی ملک ابھی تک مطلوب ترقی نہ کر سکا۔

گھر سے ائرپورٹ تک سڑک کے دونوں طرف پھیلی ہوئی عمارتوں کی صورت میں جدید دہلی کے مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ کیا ان جدید سرگرمیوں میں مسلمانوں کا بھی کوئی حصہ ہے، تو مجھے محسوس ہوا کہ مسلمان ان جدید سرگرمیوں میں اتنے کم ہیں کہ ان کا کوئی تناسب مقرر کرنا سخت مشکل ہے۔ عام آدمی اس کا سبب حکومت کے تعصب کو بتائے گا۔ مگر یہ سراسر غیر منصفانہ بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری تمام تر خود مسلمانوں کے نااہل لیڈروں پر ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مسلسل غیر متعلق نعروں کی طرف دوڑایا، وہ ان کو نتیجہ خیز کاموں میں مصروف نہ کر سکے۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ساری دنیا میں یہ عجیب و غریب منظر ہے کہ کچھ مسلم رہنماؤں کو شخصی عظمت تو خوب ملی مگر مسلمانوں کو قومی حیثیت سے عظمت نہ مل سکی۔ اس فرق کا راز یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر انہیں حکومت سے ٹکراؤ کی باتیں اچھی لگتی ہیں۔ چنانچہ تمام ملکوں میں سطحیّت پسند رہنما برسوں سے صرف اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس طرح عوام پسند باتیں کر کے وہ شخصی عظمت تو حاصل کر لیتے ہیں مگر اب تک قوم کی عظمت کا سامان نہ ہو سکا۔ قوم کی پر عظمت تعمیر کے لئے ضروری تھا کہ ملک میں ایسے رہنما ابھریں جو حکومت اور اکثریت کی نظر میں اعتماد کا درجہ رکھتے ہوں۔ مگر ٹکراؤ کی سیاست کے نتیجہ میں ایسی با اعتماد قیادت کسی بھی ملک میں ابھر نہ سکی۔ تعمیر کے مواقع استعمال ہونے سے رہ گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page