Al-Risala · May 2000 · page 33

اک تبسم ہزار شکووں کا کتنا پیارا جواب ہو تا ہے

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۳

حبیب بھائی نے حیدر آباد کے ان پروگراموں کے بارے میں اپنا تاثر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سارے پروگرام ممتاز (excellent) رہے اور ایسا لگتا ہے کہ آپ کے خلاف جو غلط پروپیگنڈا ہوا تھا وہ ان پروگراموں کے بعد بڑی حد تک دور ہو گیا۔

بھوپال سے ان پروگراموں میں شرکت کے لئے بلال الدین صاحب آئے تھے۔ حیدر آباد کے ان پروگراموں کے بارے میں انھوں نے اپنا یہ تاثر بتایا کہ میں شروع سے الرسالہ کو پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں اور آپ کی سب کتابیں بھی پڑھی ہیں مگر یہاں آکر ایسا محسوس ہوا کہ میں پھر سے الرسالہ مشن کا تعارف حاصل کر رہا ہوں۔

۷ فروری کی شام کو انگریزی روزنامہ دکن کرانیکل کے نمائندہ میر ایوب علی خاں صاحب نے تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر لیا گیا۔ انٹرویو نے مختلف قسم کے سوالاعملت کئے ۔ میری ذات کے بارے میں اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا: موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے لمبی مدت تک ہمالیائی کوششیں کیں، مگر نتیجہ صفر رہا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان کی یہ کوششیں رد عمل کے تحت وجود میں آئیں۔ وہ کسی مثبت فکر کا نتیجہ نہ تھیں۔ اس دنیا کے لئے خدا کا قانون یہ ہے کہ مثبت فکر کے تحت وجود میں آنے والا نتیجہ خیز ہو اور رد عمل کے تحت وجود میں آنے والا عمل بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔ یہ قانون ہر قوم کے لئے ہے، اس میں کسی کا استثناء نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ جن لوگوں سے میرا اختلاف ہے وہ شخصی نہیں ہے بلکہ صرف نظریاتی ہے۔ آپ میری تحریروں کو پڑھیں آپ پائیں گے کہ میں کبھی کسی کی شخصی عیب جوئی نہیں کرتا بلکہ صرف اس کے مسلمہ فکر پر تنقید کرتا ہوں۔ میرے نزدیک شخصی عیب جوئی حرام ہے۔ اور نظریاتی تنقید و تجزیہ عین جائز بلکہ ضروری ہے۔ یہ انٹرویو مفصل طور پر دکن کرانیکل ۱۳ فروری ۲۰۰۰ میں چھپا ہے۔ اس انٹرویو کا کچھ حصہ اخبار سے لے کر اگلے صفحہ پر نقل کیا جا رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page