اک تبسم ہزار شکووں کا کتنا پیارا جواب ہو تا ہے
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۲
میں نے مختلف مثالوں کے ذریعہ بتایا کہ اسلام اس ٹسٹ پر مکمل طور پر پورا اترتا ہے۔ نیا بدلا ہو اور دور اسلام کی صداقت کو از سر نو ثابت شدہ بنا رہا ہے۔ اس بات کو مختلف علمی اور تاریخی مثالوں کے ذریعہ واضح کیا۔
محبوب نگر میں پہلے جامعہ سراج العلوم کے نام سے لڑکوں کی دینی تعلیم کا ایک مدرسہ تھا۔ یہ خدا کے فضل سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اب اس کے ذمہ دار مولانا امیر اللہ خاں قاسمی اور ان کے ساتھیوں کی کوشش سے لڑکیوں کی دینی تعلیم کا بھی ایک بڑا ادارہ قائم ہو گیا ہے جس کا نام جامعہ سراج البنات ہے۔ اس کی شاندار عمارت میں نے دیکھی۔ میں نے کہا کہ آج کل مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے مدرسے جگہ جگہ قائم ہو رہے ہیں۔ یہ ملت کے لئے نئے روشن مستقبل کی علامت ہے۔ محبوب نگر کے اس جامعہ سراج البنات کے لئے جو زمین خریدی گئی وہ ایک ہندو کی تھی۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ یہ زمین لڑکیوں کی تعلیم کے لئے خریدی جا رہی ہے تو اس ہندو نے مزید تین سو گز زمین بلا قیمت دے دی۔ اس نے کہا کہ یہ ہماری طرف سے آپ کے تعلیمی ادارہ کے لئے عطیہ ہے۔ تعمیری کام میں اتنی کشش ہے کہ لوگ اپنے آپ اس کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
حیدر آباد اور محبوب نگر کے پروگرام کے آخر میں بھوپال یونیورسٹی کے ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے اپنا آخری تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حیدر آباد کے اس پروگرام میں شرکت کے بعد میرا یہ احساس ہے کہ حیدر آباد میں حلقہ الرسالہ نئی طاقت کے ساتھ ابھرا ہے۔ حلقہ الرسالہ کے افراد نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ مشن کو لے کر میدان میں آئے ہیں۔
مولانا سید اکبر الدین قاسمی صاحب نے یہاں کے پروگرام کے بارے میں اپنا تاثر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام مجموعی اعتبار سے بہت کامیاب، مفید اور موثر ثابت ہوئے۔ خاص طور پر اہل علم اور سنجیدہ حضرات نے بڑے ذوق و شوق سے اس میں حصہ لیا اور خطابات کو دلچسپی کے ساتھ سنا۔