Al-Risala · May 2000 · page 35

اک تبسم ہزار شکووں کا کتنا پیارا جواب ہو تا ہے

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۵

اجتماعات کے علاوہ یہاں مجلس کی صورت میں کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ لوگوں سے اظہارِ خیال کا موقع ملا۔ یہ سب شہر کے تعلیم یافتہ مسلمان ہوتے اٹھے۔ مگر ایک مجلس میں میں نے کہا کہ جدید حیدر آباد میں مسلمانوں کی تعمیری سرگرمیاں بہت قابلِ قدر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ابن وقت مسلمانوں کا سنگل پوائنٹ فارمولا ایجو کیشن ہے۔ سرسید احمد خاں نے غالباً سب سے پہلے تعلیم کی اہمیت کو محسوس کیا۔ سرسید کا نقطہ نظر ان کے ترجمان الطاف حسین حالی کے اس شعر میں ملتا ہے: بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے تعلیم ہی ہے۔

موجودہ زمانہ میں نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری مسلم دنیا میں سیکڑوں کی تعداد میں بڑے بڑے رہنما تھے۔ مگر سرسید کے سوا شاید کوئی نہیں جس نے حصولِ علم کو اشوبناکر باقاعدہ تحریک چلائی ہو۔ لوگ دوسرے دوسرے عنوانات پر مسلم عوام کو ابھارتے رہے۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی نے نو آبادیاتی نظام کے خلاف مہم چلائی۔ محمد علی جوہر نے ترکِ خلافت کے تحفظ کا ہنگامہ کھڑا کیا۔ سید قطب مصری نے سیاسی اقتدار کی تبدیلی کو سب سے بڑا کام سمجھا۔ آیت اللہ خمینی نے شاہ ایران کو اپنی تحریک کا نشانہ بنایا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ایوب اور بھٹو کے خلاف تقریر اور تحریر کا غوغا برپا کیا، وغیرہ۔ حتیٰ کہ ان مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کو تعلیم سے روکنے کی کو شش کی۔ مثلاً اکبر الہ آبادی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی نے انتہائی بے شعوری کے تحت کالج اور یونیورسٹی کو قتل گاہ بتایا۔ اب مسلمانوں نے تعلیم حاصل کرنا شروع کیا ہے مگر یہ ان کے رہنماؤں کی رہنمائی کی بنا پر نہیں ہے بلکہ وہ نئے حالات کی بنا پر ہے۔

ایک مجلس میں میرے خلاف اس تصویری فتنہ کی بابت سوال کیا گیا جس کی وضاحت ایک سال پہلے الرسالہ کے چند شماروں میں آچکی ہے۔ ہندوستان کے قدیم اور مستند ادارہ دارالعلوم دیو بند نے واضح طور پر میری موافقت میں فتویٰ دیا جو الرسالہ اکتوبر ۱۹۹۹ میں چھپ چکا ہے۔ میں نے کہا اس فتنہ میں الذي تولى كبره (النور) کا کردار ایک نام نہاد اسلامی جماعت نے ادا کیا تھا۔ میرے جوابات اور مذکورہ فتویٰ کی اشاعت کے بعد یہ لوگ چپ ہوگئے۔ حالانکہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page