اک تبسم ہزار شکووں کا کتنا پیارا جواب ہو تا ہے
الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۳۶
اس طرح کے معاملہ میں چپ رہنا بھی جرم ہے۔ ان لوگوں کے اوپر فرض تھا کہ معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرتے۔ جس طرح انھوں نے جھوٹی تصویر کے معاملہ کی اشاعت کی تھی اسی طرح وہ اپنی مجرمانہ غلطی کے اعتراف کی بھی مکمل اشاعت کرتے۔ اس طرح کے معاملہ میں خاموشی بجائے خود ایک جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔
وہ فتنہ یہ تھا کہ ایک بدنام ہندی اخبار ہے جس کا کام مشہور شخصیتوں کا کیریکچر (caricature) بنانا اور اپنے سطحی قارئین کو تماشہ کی چیزیں پڑھنے کے لئے دینا ہے اس اخبار نے میرے بارے میں ایک لغو تصویر چھاپی۔ مذکورہ اسلامی جماعت نے اس بیہودہ تصویر کو لے کر اپنے نام نہاد میڈیا میں چھاپا اور اس کی فوٹو کاپی تیار کر کے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری دنیا میں پھیلا دیا۔ پچھلے سال جب بھی میں کسی مشرقی یا مغربی ملک میں گیا وہاں میں نے دیکھا کہ تصویر کا یہ فتنہ مجھ سے پہلے وہاں پہنچا دیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کی تاریخ میں شاید یہ پہلا انٹرنیشنل کرائم تھا۔ پچھلی صدیوں میں جب کہ تیز رفتار میڈیا موجود نہ تھا، کسی جھوٹ کو عالمی سطح پر پھیلانا بھی ممکن نہ تھا۔ جدید دور کے میڈیا نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ کوئی شخص یا جماعت اس قسم کا انٹر نیشنل کرائم کر سکے۔ عجیب بات ہے کہ اس انٹر نیشنل کرائم کا کارنامہ اس جماعت نے انجام دیا جس نے "بر عکس نہب نام زنگی کافور" کے اصول پر اپنا نام اسلامی جماعت رکھا ہے۔ میں نے کہا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میں اس جھوٹے الزام سے مکمل طور پر بری ہوں۔ مگر جہاں تک مذکورہ اسلامی جماعت کا تعلق ہے وہ مبینہ طور پر ایک سنگین جرم کا ارتکاب کر چکی ہے۔ مذکورہ نام نہاد اسلامی جماعت نے بلا شبہ اپنے اس مکروہ فعل سے اپنے آپ کو اکسپوز کر دیا ہے۔ یہ جماعت بزعم خود "مکمل اسلام" کے نفاذ کی علم بردار ہے۔ مگر اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مکمل اسلام قائم کرنے کے یہ علم بردار بظاہر جزئی اسلام پر بھی قائم نہیں۔ ۷ فروری کی شام کو محبوب نگر سے واپس ہو کر ہم لوگ حیدر آباد میں داخل ہوئے تو رات کے ایک بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس وقت سڑکوں کی صفائی ہو رہی ہے۔