Al-Risala · May 2000 · page 46

There will be some delay in landing.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۶

استعمال کئے بغیر اس دنیا میں کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔

میں نے اپنے خطاب میں غیر مسلموں سے "سننے" کی بات نہیں کہی تھی بلکہ موجود مواقع کو استعمال کرنے کی بات کہی تھی۔ میں اس نظریہ کو بالکل بے بنیاد سمجھتا ہوں کہ ہندوستان یا دوسرے ملکوں کے غیر مسلم لوگ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اور ہمارے لئے یہ مسئلہ ہے کہ ہم ان کی دشمنی اور سازش سے کس طرح نہیں۔ میرے نزدیک موجودہ دنیا فکر و عمل کی آزادی کی دنیا ہے۔ آج کی دنیا میں ہمیں جس چیلنج کا سامنا ہے وہ اپنی نوعیت میں عملی نہیں ہے بلکہ فکری ہے۔ ہمارے لئے کسی کی طرف سے عملی زیادتی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ فکری چیلنج کا مسئلہ ہے۔ دور سائنس میں پیدا ہونے والے افکار اسلامی عقائد کو چیلنج کر رہے ہیں۔ یہ ایک فکری اور نظریاتی چیلنج ہے اور ہمیں فکری اور نظریاتی سطح پر اس کا جواب دینا ہے۔ میری کتاب مذہب اور جدید چیلنج اسی قسم کی ایک کوشش ہے۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لئے مختلف مقامات پر غیر مسلم قوموں کی طرف سے جن "زیادتیوں" کا مسئلہ ہے وہ نااہل مسلم لیڈروں کی نادانیوں کی بنا پر پیدا ہوا ہے نہ کہ غیر مسلموں کی طرف سے کسی مفروضہ دشمنی کی بنا پر۔ اگر یہ مسلم لیڈر ملک و مال کے لئے چلائی جانے والی اپنی سطحی سیاست کو چھوڑ دیں اور دعوت کو اپنا میدان عمل بنالیں تو اس قسم کی زیاد تیاں اپنے آپ ختم ہوجائیں گی میں حیدر آباد سے واپس ہو کر دہلی پہنچا تو ڈاک میں جو خطوط ملے ان میں سے ایک خط آندھر اپردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کا تھا۔ اس خط سے معلوم ہوا کہ چندرا بابو نائیڈو میری تحریریں پڑھتے رہے ہیں اور میرے تعمیری مشن کی قدر کرتے ہیں۔ ان کا یہ خط یہاں اگلے صفحہ پر نقل کیا جارہا ہے۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ہندوستان کی مسلم تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ اب تک اس ملک میں یہ حال تھا کہ یہاں کے ہندو لوگ مسلم علماء یا مسلم رہنماؤں کے نام سے جن

‹ Previous page Next page › Contents of May 2000 All issues

Printed page